MauSpace

MauSpace The all in one platform connecting and empowering Mauritians.

23/03/2026

Calm your mind. Give ease to your heart. Your story has been written by the One who gave you life. What is coming for you is far better than what has passed you by. Allah is Aware of our deepest thoughts. He is All-Aware of the unspoken words in our hearts. The doubts, the fear, the worry and the anxiety of what is to come next, put it all in His hands. He will give to you all that your heart wants. Because Allah sees your patience. He sees your struggle. He understands what it takes for you to hold onto the little hope you have left. He understands how you intentionally do things for His sake. Let it come how it is meant to come, by Allah's grace. In the meantime, practise gratitude everyday. The more you thank Allah, the more He will give to you. He is with you wherever you are. And He will not leave you for a second. You are under His care, you have been there all along.

21/03/2026

بعد میں سمجھ آتا ہے،
عید ضروری نہیں ہوتی
عیدی دینے والے ہاتھ ضروری ہوتے ہیں!
عید مبارک۔

20/03/2026

زندگی کو ضرورت سے زیادہ سنجیدہ لینا اکثر ہمیں خود سے دور کر دیتا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ سب کچھ ہمارے کنٹرول میں ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگلا لمحہ بھی ہمارے اختیار میں نہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں لوگ اچانک بیماریوں، حادثات یا غیر متوقع حالات کا شکار ہوتے ہیں۔

یعنی uncertainty کوئی exception نہیں، یہ زندگی کا بنیادی اصول ہے۔

یہی وجہ ہے کہ نفسیاتی تحقیق بار بار یہ بتاتی ہے کہ جو لوگ ہر چیز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ زیادہ anxiety اور stress کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ جو لوگ acceptance سیکھ لیتے ہیں وہ ذہنی طور پر زیادہ مستحکم ہوتے ہیں۔

یہاں ایک اور حقیقت سمجھیں۔

انسان کے پاس نیت اور عمل کا اختیار ہے، نتیجے کا نہیں۔ Behavioral science کہتی ہے کہ long-term satisfaction ان لوگوں کو زیادہ ملتی ہے جو اپنے actions پر فوکس کرتے ہیں، نہ کہ ہر نتیجے کو micromanage کرنے پر۔

اسی لیے “selfless intent” صرف اخلاقی بات نہیں، ایک practical strategy ہے۔

جب آپ نیت صاف رکھتے ہیں، کام پوری دیانت سے کرتے ہیں، تو آپ کا دماغ کم بوجھ میں ہوتا ہے۔

آپ زیادہ focused ہوتے ہیں۔ Stanford کی research میں بھی یہی دیکھا گیا کہ intrinsic motivation یعنی اندر سے آنے والی نیت، external rewards کے مقابلے میں زیادہ sustainable ہوتی ہے۔

زندگی میں clarity کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو ہر چیز کا جواب معلوم ہو۔ clarity کا مطلب یہ ہے کہ آپ جانتے ہیں آپ کس نیت سے کام کر رہے ہیں۔

باقی جو رہ جاتا ہے، وہ واقعی ہمارے ہاتھ میں نہیں۔
کب، کیا، کیسے ہو جائے، یہ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ
نیت صاف رکھو
جو کرو دل سے کرو
اور باقی رب پر چھوڑ دو

کیونکہ زندگی کنٹرول کرنے کی چیز نہیں
کھل کر جینے کی چیز ہے۔

20/03/2026

Jummah Mubarak

May Allah bring peace to this world, fill our hearts with kindness, and guide us all toward goodness and unity. Ameeen!

20/03/2026

ہماری چھوٹی سی مہربانی یا نرم لہجہ کسی کے مشکل دن کو آسان بنا سکتا ہے۔ زندگی کی خوبصورتی بھی اسی میں ہے کہ ہم دوسروں کے لیے خوشی کا سبب بنیں۔ کیونکہ جب ہم مسکراہٹیں بانٹتے ہیں تو دراصل اپنی زندگی کو بھی روشن بنا لیتے ہیں۔

13/03/2026

پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے حساب سے فارغ ہو جائے گا۔

لیکن ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان اب بھی باقی رہ جائے گا۔ یہ جنت میں داخل ہونے والا آخری دوزخی شخص ہو گا۔ اس کا منہ دوزخ کی طرف ہو گا۔

اس لیے کہے گا کہ اے میرے رب! میرے منہ کو دوزخ کی طرف سے پھیر دے۔ کیونکہ اس کی بدبو مجھ کو مارے ڈالتی ہے اور اس کی چمک مجھے جلائے دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر تیری یہ تمنا پوری کر دوں تو تو دوبارہ کوئی نیا سوال تو نہیں کرے گا؟
بندہ کہے گا نہیں تیری بزرگی کی قسم! اور جیسے جیسے اللہ چاہے گا وہ قول و قرار کرے گا۔

آخر اللہ تعالیٰ جہنم کی طرف سے اس کا منہ پھیر دے گا۔

جب وہ جنت کی طرف منہ کرے گا اور اس کی شادابی نظروں کے سامنے آئی تو اللہ نے جتنی دیر چاہا وہ چپ رہے گا۔ لیکن پھر بول پڑے گا اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب پہنچا دے۔

اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا تو نے عہد و پیمان نہیں باندھا تھا کہ اس ایک سوال کے سوا اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا۔

بندہ کہے گا اے میرے رب! مجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بدنصیب نہ ہونا چاہئے۔

اللہ رب العزت فرمائے گا کہ پھر کیا ضمانت ہے کہ اگر تیری یہ تمنا پوری کر دی گئی تو دوسرا کوئی سوال تو نہیں کرے گا۔

بندہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم اب دوسرا سوال کوئی تجھ سے نہیں کروں گا۔

چنانچہ اپنے رب سے ہر طرح عہد و پیمان باندھے گا اور جنت کے دروازے تک پہنچا دیا جائے گا۔

دروازہ پر پہنچ کر جب جنت کی پنہائی، تازگی اور مسرتوں کو دیکھے گا تو جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ بندہ چپ رہے گا۔

لیکن آخر بول پڑے گا کہ اے اللہ! مجھے جنت کے اندر پہنچا دے۔

اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ افسوس اے ابن آدم! تو ایسا دغا باز کیوں بن گیا؟ کیا (ابھی) تو نے عہد و پیمان نہیں باندھا تھا کہ جو کچھ مجھے دیا گیا، اس سے زیادہ اور کچھ نہ مانگوں گا۔

بندہ کہے گا اے رب! مجھے اپنی سب سے زیادہ بدنصیب مخلوق نہ بنا۔

اللہ پاک ہنس دے گا

اور اسے جنت میں بھی داخلہ کی اجازت عطا فرما دے گا اور پھر فرمائے گا مانگ کیا ہے تیری تمنا۔

چنانچہ وہ اپنی تمنائیں (اللہ تعالیٰ کے سامنے) رکھے گا اور جب تمام تمنائیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ فلاں چیز اور مانگو، فلاں چیز کا مزید سوال کرو۔
خود اللہ پاک ہی یاددہانی کرائے گا۔

اور جب وہ تمام تمنائیں پوری ہو جائیں گی تو فرمائے گا کہ تمہیں یہ سب اور اتنی ہی اور دی گئیں۔


صحیح البخاری
کتاب: التوحید
باب: قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ، إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ}
حدیث نمبر: 7437

12/03/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
علیؓ مجھ سے ہیں اور میں علیؓ سے ہوں، اور وہ میرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں۔
(سنن ترمذی: 3712)

رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا:
“کل میں یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائے گا۔”

پھر نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ کو بلایا، ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، نبی ﷺ نے ان پر دم کیا، اور وہ فوراً شفایاب ہوگئے۔

پھر آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا دیا اور فتح نصیب ہوئی۔

صحیح بخاری: 3701

06/03/2026

نبی ﷺ نے فرمایا:

“قریب ہے کہ قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے ایک دوسرے کو اپنے دسترخوان کی طرف بلاتے ہیں۔”

صحابہؓ نے عرض کیا: کیا اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“نہیں، بلکہ تم اُس وقت کثیر تعداد میں ہوگے، لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی طرح ہوگے۔ اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں ‘وَہَن’ ڈال دے گا۔”

پوچھا گیا: یا رسول اللہ! وَہَن کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔”

(سنن ابی داؤد)

06/03/2026

Surat Ibrahim: 14 | Ayat: 3

الَّذِیۡنَ یَسۡتَحِبُّوۡنَ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا عَلَی الۡاٰخِرَۃِ وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ ۢ بَعِیۡدٍ ﴿۳﴾

جو آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کو پسند رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں ٹیڑھ پن پیدا کرنا چاہتے ہیں یہی لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں ہیں ۔

06/03/2026

نبی ﷺ نے فرمایا:

“جب تم عِینہ (سود نما کاروبار) میں مبتلا ہو جاؤ گے، گائے کی دُمیں پکڑ لوگے (یعنی صرف دنیاوی کھیتی باڑی اور معاش میں گم ہو جاؤ گے)، جہاد چھوڑ دو گے، تو اللہ تم پر ذلت مسلط کر دے گا، اور وہ اسے تم سے نہیں ہٹائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف واپس نہ لوٹ آؤ۔”

(سنن ابی داؤد)

01/03/2026

Address

Lahore
42000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MauSpace posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share