03/10/2022
پیٹرول پمپس کے سٹاک میں جو مستقل نقصان ہوتا ہے۔ اس میں سب سے بڑا قصور وار ٹینکوں کی ڈاؤن فٹنگ کرنے والا پلمبر نما حکیم ہوتا ہے۔ جو کم ریٹ کی پھکی دیکر پروجیکٹ تو اٹھا لیتا ہے, لیکن بعد از افتتاح ۔۔۔۔ پمپ مالک کو یومیہ بنیادوں پر نقصان دینے کا ایسا انتظام کرتا ہے کہ بس۔۔۔۔۔ 😶
دوسرے نمبر پر قصور وار بنتا ہے وہ سیپ والا جدی پُشتی مستری جس کی رائے کے سامنے کمپنی انجینئر کی بات بھی شاپر بن کے رہ جاتی ہے۔ جو اپنی مرض کیساتھ کم خرچ بالا نشین والے ایسے ایسے نادر مشورے دیکر سول ورک کا بھٹہ بیٹھا دیتا ہے کہ فیول سٹاک ٹمپریچر ایفکٹ کے تازیانے پمپ مالک کو دیوالیہ کرکے رکھ دیتے ہیں۔
جبکہ تیسرے نمبر پر قصور وار ٹینک بنانے والے وہ فیبریکیٹرز ہوتے ہیں جو ایک تو سٹینڈرڈ سائز کے ٹینکوں کو اپنی بچت اور سہولت والے سائزوں میں بنا ڈالتے ہیں۔ مزید اس پر فوٹو کاپی ڈپ چارٹ بطور لنگر بانٹتے ہیں۔
چوتھے نمبر پر خود پیٹرول پمپ مالکان قصور وار ہوتے ہیں جو بنا پروفیشنل تعلیم و تربیت کے کروڑوں کی سرمایہ کاری کرکے فیول سیلز میں ماہانہ لاکھوں روپے گھاٹا کھانے کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھتے ہیں۔ اور پھر اپنا گھاٹا پورا کرنے کے لئے پیمانہ شارٹ کرتے ہیں, اور گاہکوں میں رہی سہی عزت و ساکھ بھی مٹی میں ملاکر 3 کروڑ کا پمپ ماہانہ 1 لاکھ میں ٹھیکے پر دیکر خود سعودیہ کا ویزہ لگوالیتے ہیں۔
🙄🙏😒
یہ ایک جنرل حالات کا معروضی تجزیہ ہے۔ جس سے اتفاق کرنا آپ کی مجبوری ہے۔ کیونکہ متبادل کچھ نہیں ہے۔ سوائے ان خرابیوں کو دور کرنے کے جن کی وجہ سے نقصان ہورہا ہے۔
ہر مسئلہ کا حل موجود ہوتا ہے۔ مزید ایک لاکھ بھی نہیں لگتا۔۔۔ اور سارے ایرر دور ہوجاتے ہیں۔۔۔ بات ہے حوصلہ کرنے اور اعتماد کرنے کی۔
مزید سوالات و جوابات کیلئے ۔۔۔۔
PetroCraft
Khalid Tararr
03072818557