14/09/2024
جب ٹائیٹینک ڈوب رہا تھا تو اس میں ارب پتی جان جیکب ایسٹر چہارم سوار تھا۔ اس کے بینک اکاؤنٹ میں اربوں ڈالر موجود تھے جن کو استعمال کر کے وہ خوشحال زندگی جی سکتا تھا۔ تاہم، خطرے کا سامنا کرتے ہوئے، اس نے وہی انتخاب کیا جسے وہ اخلاقی طور پر درست سمجھتا تھا اور دو خوفزدہ بچوں کو بچانے کے لیے لائف بوٹ میں اپنی جگہ چھوڑ دی۔یاد رہے لائف بوٹس کم تھیں اور سوار زیادہ تھے۔
اسی طرح ڈپارٹمنٹل اسٹورز کی سب سے بڑی امریکن چین کے مالک اسٹراس بھی ٹائٹینک پر تھے،
اس نے کہا:
"میں کبھی بھی دوسروں کی جگہ لائف بوٹ میں داخل نہیں ہوں گا۔"
اس کی بیوی ایڈا اسٹراس نے بھی لائف بوٹ پر سوار ہونے سے انکار کر دیا، اور اس کی جگہ اپنی نوکرانی ایلن برڈ کو دے دی۔ اس نے زندگی کے آخری لمحات اپنے شوہر کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا۔
ان دولت مند افراد نے اپنے اخلاقی اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنی دولت اور یہاں تک کہ اپنی جان دینے کو ترجیح دی۔ اخلاقی اقدار کے حق میں ان کے انتخاب نے انسانی تہذیب اور انسانی فطرت کی شان کو اجاگر کیا
یہی صورتحال اس وقت ہمارے ملک کی ہے مگر فرق یہ ہے کہ جہاز کی جگہ ہمارا ملک ہے اور عوام ڈوب رہی ہے لیکن اشرفیہ غیریبوں کا خُون نچوڑ کر مفت بجلی یونٹس مفت پٹرول اور مفت بنگلے سیاسی پروٹوکول کے مزے اوڑا رہے ہیں
یورپ کی ترقی اور ہماری بربادی کی وجہ آپکے سامنے ہے
منقول