15/06/2026
لائٹس کا مزاج پر اثر:
ہم نے اپنے گھر میں ہر طرح کی لائٹس لگائی ہوئی ہیں سیلنگ لائٹس بھی ہیں ٹیبل اور کارنر لیمپس بھی ہیں سپاٹ لائٹ بھی ہیں۔
مجھے گھر روشن کھلے اور ہوادار پسند ہیں
میرے لیے روشنی انرجی ہے۔
مختلف لائٹس میرے موڈ پر الگ طرح سے اثر انداز ہوتی ہیں۔
جیسے جب میرے بیڈ روم کی تمام لائٹس آن ہوں تو یہ میرے دماغ کو فل ایکٹیو ہونے کا میسج دیتی ہیں مطلب یہ ہے ریلکس ہونے کا وقت نہیں کام کا وقت ہے جب میں بیٹھنے یا ریلیکس کرنے کے موڈ میں ہوتی ہوں جیسے کسی سے فون پہ بات بھی کرنی ہو تو میں ان میں سے آدھی لائٹس بجھا دیتی ہوں۔
اس سے میرے دماغ کو میسج ملتا ہے اب کام نہیں ریلیکس بیٹھ جاؤ۔
سونے سے پہلے کچھ دیر سائڈ کیمپس آن کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سونے کی تیاری کرو موبائل استعمال کر لو جبکہ سونے کے لیے تمام لائٹس بند صرف ایک چھوٹی سی سپاٹ لائٹ جس کی روشنی ڈائریکٹ آنکھوں میں نا پڑے۔
میں نا محسوس طریقے سے ان ارینجمنٹس کی اس قدر عادی ہوں کہ کمرے کی پوری لائٹس روشن ہوں تو میں ریلیکس ہو کے بیٹھ نہیں سکتی جب تک لائٹ بجھا نا لو ۔
اسی طرح مدھم روشنی میں کام نہیں کر سکتی چاہے الماریوں سے کچھ رکھنا نکالنا ہو، بچوں کو پڑھانا ہو، بیڈ شیٹس بدلنی ہوں جس کام میں زیادہ انرجی درکار ہو۔
اسی طرح تیز روشنی میں میں کسی کو فون نہیں کر سکتی کچھ لکھ نہیں سکتی یعنی ریلیکس بیٹھ کے کرنے والا کوئی بھی کام نہیں کر سکتی۔
روشنی میں سو بھی نہیں سکتی خاص طور سے جب لائٹس آنکھوں میں سیدھا پڑ رہی ہوں۔
یہاں تک کے سائڈ لیمپس بھی جل رہے ہوں ۔
اسی طرح میں کبھی بھی تمام لائٹس بجھا کے اندھیرے میں موبائل استعمال نہیں کر سکتی نا کسی سے کال پہ بات کر سکتی ہوں نا موبائل پہ کچھ لکھ سکتی ہوں
میں اسی طرح کام، موڈ اور مصروفیت کے حساب سے کمرے کی مختلف لائٹس غیر محسوس انداز میں جلاتی یا بجھاتی رہتی ہوں
کیا آپ نے کبھی لائٹس کی انرجی کو محسوس کیا ہے کیا آپ بھی روزمرہ کام کاج لائٹس سے لنک کرتے ہیں۔