03/07/2025
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ کنسٹرکشن کا کام بڑا آسان ہے یہ کوئی بھی کورس کر کے آ سکتا ہے ، یا چند دن کسی مستری کے ساتھ لگا کے سیکھ سکتے ہیں ۔ یاد رکھیے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کنسٹرکشن اور اس کے وژن میں بہت تبدیلیاں آ چکی ہیں، اب صرف ریت گارا اور اینٹیں جوڑنا کنسٹرکشن نہیں کہلاتا بلکہ اس میں آرٹ اور انٹیریئر کا بہت بڑا عمل دخل ہے ۔
ہم جیسے پروفیشنل لوگ جن کے 30 سال اس کام میں لگ چکے ہیں ہم اب بھی سیکھنے کے مراحل میں ہیں ، اور یہ کام ایسا ہے کہ ایک ذرا سی کوتاہی کسی کا کروڑوں کا نقصان کروا سکتی ہے ، شاعر سے معذرت کے ساتھ
یہ تعمیر نہیں اساں بس اتنا سمجھ لیجئے
ایک اگ کا دریا ہے ۔۔۔۔۔۔اور ڈوب کے جانا ہے
مکان صرف اینٹ، سیمنٹ اور سریے سے نہیں بنتا...یہ پسینے سے بنتا ہے، نیندوں کی قربانی سے بنتا ہے۔نقشہ کاغذ پر بڑا خوبصورت لگتا ہے،لیکن اس کو حقیقت میں اُتارنے کے لیے سینکڑوں فیصلے درکار ہوتے ہیں۔ سول انجینئرنگ کی کئی بھول بھلیوں سے گزرنا پڑتا ہے یہاں کسی بھی جگاڑ کا کوئی کام نہیں۔
مارکیٹ میں معیاری سریہ تلاش کرنا،
ریت اور بجری کے ہر لوڈ کو چیک کرنا،
سٹاف کی حاضری، مزدور کی محنت، سر پر کھڑے ہو کر ہدایات
یہ سب مل کر صرف ایک دیوار کھڑی کرتے ہیں۔
پھر ہر دیوار کو پانی دینا،ہر کمرے کو ماپ سے گزارنا،اور ہر اینٹ کو پرکھنا ۔۔۔ یہ آسان نہیں
مکان راتوں رات نہیں کھڑے ہوتے ان میں آپ کا پیسہ اور ماہر کاریگروں کا خون پسینہ لگتا ہے ، تعمیر کی دنیا میں صرف ہنر نہیں۔۔۔ صاف نیت، صاف حساب بھی ہے ۔ جاڑے کے دھندے بھرے دن ، اور جون کی چلچلاتی دوپہریں کام میں گزرتی ہیں
تب جا کر کوئی گھر بنتا ہے۔۔۔۔ اور یہ صرف مکان نہیں ہوتا ، کسی کا خواب ہوتا ہے ۔
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ کنسٹرکشن آسان کام ہے،
وہ ایک دن کسی سائیٹ پر آ کر کھڑے ہوں،اور دیکھیں کہ یہ کام صرف محنت نہیں،یہ وقت، صبر اور مہارت کا امتحان ہے۔
ہم ہر قدم پر کوشش کرتے ہیں کہ مکان ڈھانچہ اتنا مضبوط ہوکہ وقت، موسم اور حالات بھی اسے کمزور نہ کر سکیں۔
(انجینئر مجیب الرحمٰن کی وال سے)