16/06/2026
تھکاوٹ تمہارا حق ہے،
گرنا تمہاری کمزوری نہیں،
مگر اٹھنا تمہاری مجبوری ہے،
کیونکہ کچھ لوگ
تمہاری طاقت پر
اپنی زندگی کی عمارت
کھڑی کیے ہوئے ہیں۔
جب تم تھکتے ہو
تو صرف تم نہیں تھکتے،
تمہارے ساتھ وہ بچہ بھی تھکتا ہے
جو تمہاری آنکھوں میں
اپنا مستقبل دیکھتا ہے،
وہ ماں بھی تھکتی ہے
جو تمہاری کامیابی کی دعا میں
اپنی نیند لگا چکی ہے۔
درخت طوفان میں جھکتا ہے
مگر جڑیں نہیں چھوڑتا،
اس لیے نہیں کہ
درخت کو درد نہیں ہوتا،
اس لیے کہ
اس کی شاخوں پر
کتنے گھونسلے ہیں،
کتنے پرندوں کا گھر ہے۔
زندگی نے جب بھی گرایا
تو دو راستے ملے،
ایک یہ کہ لیٹے رہو،
دوسرا یہ کہ اٹھو
اور یاد کرو
کہ کون تمہاری طرف دیکھ رہا ہے،
جس دن وہ چہرہ یاد آیا
اٹھنا آسان ہو گیا۔
کمزور وہ نہیں جو روتا ہے،
کمزور وہ ہے جو
اپنی ذمہ داری بھول جاتا ہے،
طاقتور وہ ہے
جو آنسو پونچھ کر
پھر کھڑا ہو جاتا ہے،
اس لیے نہیں کہ
اسے تکلیف نہیں،
اس لیے کہ
اسے پتہ ہے
اس کے بغیر کون ٹوٹ جائے گا۔
دنیا کے سب سے مضبوط لوگ
وہ نہیں تھے
جنہیں تکلیف نہیں ہوئی،
سب سے مضبوط وہ تھے
جنہوں نے تکلیف میں بھی
اپنوں کا بوجھ اٹھائے رکھا،
چہرے پر مسکراہٹ رکھی
اور اندر سے
ٹوٹتے رہے،
مگر گرے نہیں۔
تم جب رات کو
اکیلے تھکاوٹ میں ڈوبے ہو،
یاد کرو
کہ صبح کسی نے
تمہارے کندھے پر
سر رکھ کر سونا ہے،
کسی نے تمہارا انتظار کرنا ہے،
کسی نے تمہاری آواز سن کر
محفوظ محسوس کرنا ہے،
یہی یاد
سب سے بڑی طاقت ہے۔
اس لیے گرو مت،
یا گرو تو جلدی اٹھو،
کیونکہ تم صرف اپنے لیے
نہیں جی رہے،
تم ان لوگوں کی
چھت ہو
جن کا تمہارے سوا
کوئی نہیں۔