13/05/2025
دکان پر گاہک اللّٰہ بھیجتا ہے…
برطانیہ، چین اور ملائیشیا کے مشہور سپر اسٹورز میں کام کرنے والے ایک قابل اور تجربہ کار منیجر کو بن داؤد سپر اسٹورز (مکہ) میں کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ برطانوی نژاد تھا اور بزنس مینجمنٹ کی کتابوں میں ہمیشہ یہ سیکھا تھا کہ اپنے مقابل حریف (competitor) کو نیچا دکھا کر ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔
مکہ مکرمہ میں کچھ عرصہ بطور ریجنل منیجر کام کرنے کے بعد، اس نے دیکھا کہ ایک نئے سپر اسٹور کی برانچ اس کے اسٹور کے بالکل سامنے کھلنے والی ہے۔ اسے لگا کہ یہ نیا اسٹور اس کی سیلز پر اثر انداز ہوگا۔ چنانچہ اس نے فوراً بن داؤد سپر اسٹورز کے مالکان کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں نئے اسٹور کے بارے میں معلومات، مشورے اور آئندہ کا لائحہ عمل شامل تھا۔
لیکن اُسے شدید حیرت کا سامنا اُس وقت ہوا جب مالکان نے اسے حکم دیا کہ وہ نئے سپر اسٹور کے ملازمین کے سامان رکھنے، ان کے لیے اسٹور کی تزئین و آرائش، اور چائے پانی کا خاص خیال رکھنے کے انتظامات کرے۔
اس کی حیرت کو ختم کرتے ہوئے مالکان نے کہا:
“وہ اپنا رزق اپنے ساتھ لائیں گے اور ہمارا رزق ہمارے ساتھ ہوگا۔
ہم اپنے لکھے ہوئے رزق میں ایک ریال کا بھی اضافہ نہیں کر سکتے، اگر اللہ نہ چاہے،
اور نہ ہم کسی اور کے رزق میں ایک ریال کی کمی کر سکتے ہیں، اگر اللہ نہ چاہے۔
تو کیوں نہ ہم بھی اجر کمائیں اور مارکیٹ میں آنے والے نئے تاجر بھائی کا خیر مقدم کر کے ایک خوشگوار فضا قائم کریں؟”
دوسرا واقعہ ایک مشہور پولٹری کمپنی کا ہے۔
الفقیہ پولٹری کمپنی کے مالک نے مکہ مکرمہ میں ایک عظیم الشان مسجد (مسجد الفقیہ) تعمیر کروائی۔
جب ان کی حریف کمپنی “الوطنیہ چکن” لاکھوں ریال کی مقروض ہو کر دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی،
تو الفقیہ کمپنی کے مالک نے الوطنیہ کمپنی کے مالک کو ایک خط لکھا اور اس کے ساتھ دس لاکھ ریال سے زائد کا چیک بھی بھیجا۔
خط میں لکھا تھا:
“میں دیکھ رہا ہوں کہ تم دیوالیہ ہونے کے قریب ہو۔ میری طرف سے یہ رقم قبول کرو۔ اگر مزید رقم درکار ہو تو بلا جھجھک بتاؤ۔ پیسوں کی واپسی کی فکر مت کرنا، جب ممکن ہو، لوٹا دینا۔”
یہ وہ موقع تھا جب شیخ الفقیہ چاہتے تو اپنی سب سے بڑی حریف کمپنی کو خرید سکتے تھے،
لیکن انہوں نے اپنے سب سے بڑے مخالف کی مالی مدد کو ترجیح دی۔
⸻
حاصلِ کلام:
یہ دونوں سچے واقعات اسلامی تجارت کے سنہری اصولوں کی بہترین عکاسی کرتے ہیں۔
کبھی کسی حریف سے پریشان نہ ہوں۔ اگر آپ ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں اور دوسروں پر احسان کرتے ہیں،
تو اللہ تعالیٰ ضرور آپ کا ساتھ دیتا ہے اور آپ کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔
یاد رکھیں!
کسی کی ٹانگ کھینچنے سے آپ کا رزق نہیں بڑھے گا۔
جو کسی کے نصیب میں ہے، وہ اُسے ضرور ملے گا۔