23/02/2026
پاکستان کے افغانستان پر فضائی حملوں میں ٹی ٹی پی کے 42 اہم کمانڈرز کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوگئی ہے ۔ ہلاک کمانڈرز کا تعلق پاکستان کے شمالی علاقوں سے ہے جو یہاں سے بھاگ کر افغانستان میں پناہ لئے ہوئے تھے اور وہاں سے پاکستان کے اندر دہشتگرد نیٹورک کو آپریٹ کررہے تھے
پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں، خاص طور پر بنوں اور باجوڑ میں حالیہ خودکش حملوں کے بعد ایک بڑا اور غیر معمولی فیصلہ کیا۔ پہلی بار کھلے طور پر افغان سرزمین پر منظم فضائی حملے کیے گئے۔ یہ کارروائی اچانک نہیں تھی بلکہ کئی ماہ کی خفیہ نگرانی، سگنلز کی ٹریکنگ اور زمینی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے بعد کی گئی۔ مختلف ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کو ملا کر ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں موجود تین اہم کیمپوں کی درست جگہ کی تصدیق کی گئی، جس کے بعد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
کارروائی کے دوران ننگرہار کے اضلاع خوگیانی، غنی خیل اور بہسود میں موجود کیمپ کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ٹی ٹی پی کے نئے بھرتی ہونے والے افراد کو تربیت دی جا رہی تھی۔ اسی طرح پکتیکا کے ضلع برمل میں قائم “کیمپ الجہاد” کو بھی ہدف بنایا گیا، جسے تنظیم کی رسد اور رابطہ کاری کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا تھا۔ خوست کے سرحدی علاقے، جہاں حقانی نیٹ ورک کا اثر و رسوخ مانا جاتا ہے، میں موجود کیمپوں پر بھی حملے کیے گئے، جہاں نسبتاً چھوٹے مگر سخت گیر اور تربیت یافتہ گروہ موجود تھے۔
خفیہ ذرائع کے مطابق ان تینوں مقامات پر مجموعی طور پر 42 اہم کمانڈر مارے گئے۔ یہ وہ افراد تھے جو مختلف علاقوں میں سرگرم دستوں کی قیادت کر رہے تھے اور حالیہ مہینوں میں ہونے والی کارروائیوں میں ان کا اہم کردار تھا۔ ایک ہی دن میں اتنی بڑی تعداد میں کمانڈرز کی ہلاکت نے تنظیم کے فیلڈ لیول کمانڈ اور رابطہ نظام کو شدید دھچکا پہنچایا۔ افغان وزارتِ دفاع کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے الزامات بھی سامنے آئے، تاہم مختلف ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ ٹی ٹی پی کو نمایاں نقصان ہوا ہے۔
ان حملوں کے علاقائی اور سفارتی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ سب سے اہم پیغام یہ گیا کہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کا تصور اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ اگر اس کی سرزمین پر حملے ہوں گے تو وہ دفاع تک محدود نہیں رہے گا بلکہ خطرے کے منبع تک کارروائی کرے گا۔ کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ضرور ہوا، طالبان حکومت نے سخت بیانات دیے، لیکن ساتھ ہی سرحدی نگرانی سخت کرنے کی ضرورت بھی محسوس کی گئی۔ چین، ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک نے پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کی کہ دہشت گردی کو کسی سرحد کی آڑ میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
مارے گئے افراد میں ننگرہار، پکتیکا اور خوست کے کیمپوں سے تعلق رکھنے والے مختلف علاقوں کے کمانڈر شامل تھے۔ ننگرہار میں مارے جانے والوں میں پنجوائی قندھار کا نیک محمد، مینگورہ سوات کا احمد، کالام سوات کا فضل احمد، برمل ضلع خیبر کا ناصر، میران شاہ شمالی وزیرستان کا حبیب اور یاسر، بہاولپور کا شفیق، ڈیرہ غازی خان کا سمیع، بنوں کا کریم، کالا سوات کا رفیق اور دھکی شمالی وزیرستان کا نعمت شامل تھے۔
پکتیکا کے کیمپ میں ہلاک ہونے والوں میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور افغانستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، جن میں احمد خان، محمد یوسف، عبد اللہ، سمیع اللہ، نور احمد، حامد اللہ، جمیل احمد، ناصر احمد، سلیمان خان، فیاض احمد، شہاب الدین، کریم اللہ، حبیب اللہ، رضا خان، قیس احمد، یوسف جان، فضل اللہ، نادر احمد، نعمت اللہ، رفیق اللہ، رحمت اللہ اور بشیر احمد شامل ہیں۔
خوست کے کیمپ میں مارے جانے والوں میں سوات کا بلال خان، ضلع خیبر کا اسد اللہ، میانوالی کا طاہر حسین، شمالی وزیرستان کا شعیب احمد، دیر بالا کا فیاض خان، ضلع خیبر کا نعمان احمد، پکتیکا کا رحمت اللہ، ننگرہار کے برمل کا عارف خان اور کاپیسا افغانستان کا فاروق احمد شامل تھے۔
مجموعی طور پر یہ کارروائی اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے دفاعی حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔ صرف ردعمل تک محدود رہنے کے بجائے اب خطرے کے منبع کو نشانہ بنانے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ ایک ہی رات میں 42 اہم اہداف کو ختم کرنا تنظیم کے لیے بڑا دھچکا ہے، اگرچہ اس کے ساتھ سفارتی تناؤ بھی بڑھا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ جب تک سرحد پار سے دہشت گردی کا سلسلہ بند نہیں ہوتا، اس نوعیت کی خفیہ معلومات پر مبنی کارروائیاں جاری رہ سکتی ہیں۔
ننگرہار صوبہ کے اضلاع خوگیانی، غنی خیل اور بہسود میں موجود کیمپ میں مارے جانے والے ٹی ٹی پی کمانڈرز کے نام
1. نیک محمد، ولدیت: حامد، گاؤں: پنجوایی، صوبہ قندهار
2. احمد، ولدیت: محمد، گاؤں: مینگورہ سوات
3. فضل احمد، ولدیت: رحمت، گاؤں: کالام سوات
4. ناصر، ولدیت: کریم، گاؤں: برمل خیبر
5. حبیب، ولدیت: ولی، گاؤں: میران شاہ شمالی وزستان
6. شفیق، ولدیت: نعمت، گاؤں دکلان بہاولپور
7. سمیع، ولدیت: نادر، گاؤں: سنگلا ڈی جی خان
8. کریم، ولدیت: حامد، گاؤں بنوں خیبر
9. رفیق، ولدیت: عبد اللہ، گاؤں: کالا سوات
10. نعمت، ولدیت فرید، گاؤں دھکی شمالی وزستان
11. یاسر، ولدیت: رحمت، گاؤں: میران شاہ شمالی وزستان
پکتیکا صوبہ کے کیمپ جو ضلع برمل میں ہے اس میں مارے جانے والے ٹی ٹی پی کمانڈرز کے نام
1. احمد خان، ولدیت: محمد، گاؤں: بالا حصار، صوبہ: خیبر پختونخواہ، پاکستان
2. محمد یوسف، ولدیت: اسماعیل، گاؤں: شیرخان، صوبہ: خیبر پختونخواہ، پاکستان
3. عبد اللہ، ولدیت: ولی، گاؤں: کلی حلیم، صوبہ: بلوچستان، پاکستان
4. سمیع الله، ولدیت: حمید، گاؤں: دشت ارچی، صوبہ: خیبر پختونخواہ، پاکستان
5. نور احمد، ولدیت: ناصر، گاؤں: برمل، صوبہ: خیبر پختونخواہ، پاکستان
6. حامد الله، ولدیت: سعید، گاؤں: جاغوری، صوبہ: بلوچستان، پاکستان
7. جمیل احمد، ولدیت: فرید، گاؤں: خان آباد، صوبہ: خیبر پختونخواہ، پاکستان
8. ناصر احمد، ولدیت: عبد الحق، گاؤں: چمکاری، صوبہ: غزنی افغانستان
9. سلیمان خان، ولدیت: محمد، گاؤں: دشت لار، صوبہ: بلوچستان، پاکستان
10. فیاض احمد، ولدیت: گل محمد، گاؤں: خرانی، صوبہ: پنجشیر افغانستان
11. شهاب الدین، ولدیت: حکمت، گاؤں: شینوار، صوبہ: خیبر پختونخواہ، پاکستان
12. کریم الله، ولدیت: حامد، گاؤں: شهرک، صوبہ: بلوچستان، پاکستان
13. حبیب الله، ولدیت: نادر، گاؤں: چرخ سوات پاکستان
14. رضا خان، ولدیت: احمد، گاؤں: پشت رود، صوبہ: بلوچستان، پاکستان
15. قیس احمد، ولدیت: نعمت، گاؤں: مهترلام، دیر بالا پاکستان
16. یوسف جان، ولدیت: سید، گاؤں: بڈھ بیر صوبہ: خیبر پختونخواہ، پاکستان
17. فضل الله، ولدیت: عبد اللہ، گاؤں: شیخ آباد، صوبہ: بلوچستان، پاکستان
18. نادر احمد، ولدیت: رحمت، گاؤں: سنگ توت شمالی وزیرستان، پاکستان
19. نعمت الله، ولدیت: حامد، گاؤں نجراب، صوبہ: خیبر پختونخواہ، پاکستان
20. رفیق الله، ولدیت: یوسف، گاؤں: برلای، صوبہ: خیبر پختونخواہ، پاکستان
21. رحمت الله، ولدیت: فرید، گاؤں: قلعه نو، صوبہ: بلوچستان، پاکستان
22. بشیر احمد، ولدیت: اسماعیل، گاؤں: دشت شور، صوبہ: بلوچستان، پاکستان
خوست صوبہ کےسرحدی علاقے جو حقانی نیٹ ورک کے زیر کنٹرول ہے ان کیمپ میں مارے جانے والے ٹی پی کمانڈرز کے نام
1. بلال خان
ولد: محمد خان
گاؤں: شیران
ضلع: سوات
2. نام: اسد اللہ
ولد: کریم اللہ
گاؤں: غرمیان
ضلع: خیبر
3. نام: طاہر حسین
ولد: قادر حسین
گاؤں: پشمک
ضلع: میانوالی
4. نام: شعیب احمد
ولد: رحمت احمد
گاؤں: نور آباد
ضلع: شمالی وزستان
5. نام: فیاض خان
ولد: جان محمد
گاؤں: بیدار
ضلع: دیر بالا
6. نام: نعمان احمد
ولد: سلیم احمد
گاؤں: سبزوار
ضلع: خیبر
7. نام: رحمت اللہ
ولد: غلام اللہ
گاؤں: خوشوال
ضلع: پکتیکا
8. نام: عارف خان
ولد: سید خان
گاؤں: برمل
ضلع: ننگرہار
9. نام: فاروق احمد
ولد: بشیر احمد
گاؤں: کاپیسا
ضلع: کاپیسا