ECSPak-Consultant Services Pakistan

ECSPak-Consultant Services Pakistan Engineering Consultancy Services founded by Engr. Shafiqur Rehman, former Chief Engr.

Irrigation Department, Khyber Pakhtunkhwa 47 SF Uhad Tower University Road Peshawar. Main Fields Of Specialization.
1. 1205 (i) (ii) – (i) Irrigation System, Hydraulic Structures. (ii) Dams, Reservoirs, Tunnels.

2. 1206 – Water Transmission Lines
3. 1207 – Hydroelectric Power Stations

4. 1235 – Surveying, Valuation and Loss Assessment


Sub Fields Of Specialization
1. 0535 - Hydraulic studies &

engineering
2. 0536 - Soil mechanic and foundation engineering
3. 0537 - Engineering design
4. 0542 - Design review
5. 0543 - Quantity surveying, cost estimating
6. 0544 - Estimation, preparation of contract documents & bid Evaluation
7. 0546 - Supervision/inspection of construction
8. 0547 - Supervision/inspection of equipment installation
9. 0548 - Project management (management on behalf of owner)
10. 0549 - Technical assistance and advisory services
11. 0571 - Operations and maintenance
12. 0572 - Maintenance planning
13. 0575 - Civil works rehabilitation
14. 0591 - Institutional strengthening
15. 0593 - Management studies
16. 0594 - Organizational development studies

09/11/2025


World leaders and experts gather for COP30 in Brazil. The COP is a global body for policy and key decision-making on Climate Change, whose meeting will take place from November 6-21 in Brazil. Here are the issues.
1. pollutes and who suffers???
pollutes?
A. Top 10 countries that pollute 1. China,2. United States,3. India, 4. Russia,5. Japan 6. Indonesia,7. Iran,8. Germany, 9.South Korea and 10.Saudi Arabia

suffers?
B. Top 10 countries that suffer. 1. Chad,2.Bangladesh,3.Pakistan
4. Democratic Republic of the Congo, 5. India, 6.Tajikistan, 7.Nepal
8. Uganda, 9. Rwanda and 10.Burundi

Annual Normal Estimated Cost of Environmental Degradation in Pakistan is about USD 3.6 billion + USD 30.00 billion 2022 Floods, one-time,2025 Floods (USD 1.4 to 2.9 billion), one-time and many more.

2. will compensate Pakistan?
Actually, the polluting States should compensate the affected rationally, but no one is ready to compensate adequately. Even the commitment is not honoured in letter and spirit.

3. makes sure the climate funds reach actual beneficiaries?
With the passage of time, climate disasters intensify, resulting in increased investments. More investments need more effective institutional mechanisms to make it sure that climate investments reach the people and places that actually need them. For this, there is a need for strong public oversight and accountability, which at present is not in place

.Engr Shafiqur Rahman

09/11/2025


وہ قدرتی دریا جو ایک ملک یا علاقے سے شروع ہوکر دوسرے ملک یا علاقے میں جاتے ہیں ان کے پانی پر سارے متعلقہ ابادی کا حق ہوتا ہے۔ رائج الوقت طریقہ کار یہ ہے کہ مستند ذرائع سے ایسے دریاوں کا پہلے سے موجود پانی کا استعمال معلوم کیا جاتا ہے پھر اگر غیر استعمال شدہ پانی موجود ہو تو ان کا مقدار ۔ تب کہیں جاکر اضافی پانی کا باہمی مشاورت سے تقسیم کا فارمولا طے ہوتا ہے اور نئے پراجیکٹ بنائے جاتے ہیں ۔ اب اگر افغانستان دریا آمو کا پانی قوش تپہ نہر کے لئے روک کر یا چترال سے نکلنے والے دریا چترال کا پانی کونڑ میں روک کر یا پھر ہلمند کا پانی کمال خان ڈیم شروع کرنے پر روک کر ، ازبکستان، ترکمانستان، پاکستان اور ایران کے پہلے سےزیراستعمال پانی کو روک رہا ہے یا کوئی فارمولہ طے کئے بغیر ان دریاوں کے زیادہ پانی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ تو ایسا کرنا مکمل غیر قانونی ہے اور اس سے سارے متعلقہ ملکوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کا خطرہ موجود ہے جس سے عوام اور پراجیکٹس سب متاثر ہونگے۔ لہذا وقت اور مشترکہ مفادات کی ضرورت ہے کہ سب ممالک مل بیٹھ کر اس تنازعے کا حل نکالیں ۔ یاد رہے کہ دریائے چترال جب کابل کی طرف سے انے والے ٹریبیوٹری کے ساتھ مل کر دریا کابل کانام اختیار کرتا ہے پھر طورخم سے اٹک تک یہی دریائے کابل ہی کہلاتا ہے اگر چہ اس میں دریائے پنجکوڑہ ، دریائے سوات ، دریائےکلپانی، دریائے باڑہ-مستورہ بھی مل جاتے ہیں) لہزا دریائے کابل دراصل صرف نام ہے اور اس بڑے دریا میں کابل شہر کی طرف سے انے والے ٹریبیوٹری کے پانی کا حصہ بہت کم ہے ۔

06/05/2025


پاک ہندوستان آبی معاہدے میں تین مشرقی دریاوں ستلج ، راوی، بیاس کے پانی پر ہندوستان کا اور تین مغربی دریاوں سندھ، جہلم، چناب کے پانی پر پاکستان کا حق ہے۔ ابھی تک ہندوستان نے چناب اور جہلم پر صرف ہائیڈل پاور پراجیکٹس بنائے ہیں جس کی معاہدے میں اجازت ہے البتہ ہائڈروپاور پراجیکٹس اور کشن گنگا میں معمولی ردوبدل کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس پر کافی عرصے سے تنازعہ چلا آرہا ہے باقی ان دریاوں پر ڈیم بننے کی گنجائش ہندوستان اور پاکستان دونوں کے علاقوں میں بہت کم ہے نہ ہندوستان میں کوئی لنکس نہریں بنی ہیں۔ اگر بھارت بڑے پراجیکٹس بنانےکا برا ارادہ کر بھی لیں تو نہایت مہنگے ناقابل عمل اور لمبی مدت کےتعمیر والے ہونگے لہذا پاکستان کی طرف بہنے والے پانی کو بند کر نے کا فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔ جو معمولی سی پانی وہ ہائڈرو پاور پراجیکٹس وغیرہ سے بند بلک ضائع کر بھی سکتا ہے۔ وہ پہلے ہی سے کرتا آ رہا ہے اور اس سے پاکستان کو کوئی قابل ذکر مسئلہ نہیں ۔ تو بھارت کی نا اہل قیادت نے معاہدے کی معطلی سوچے سمجھے بغیر کی۔ جس کے بارے میں پاکستان کو قلیل مدت میں فکر مند نہیں ہونا چاہئے۔ ہاں اپنے زیر تعمیر مہمند، بھاشا اور کرم تنگی ڈیمز کی جلد تکمیل اور کالا باغ ڈیم کے متبادل ڈیم پر توجہ ضرور دینی چاہئے۔

06/05/2025


Hight time for Pakistan to ensure timely completion of ongoing Basha-Diamir Dam on Indus and Mohmand Dam on Swat River and start work on Chiniot Dam on Chanab River.

Address

47 SF Uhad Tower, University Road
Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ECSPak-Consultant Services Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share