26/06/2026
یہ تاریخِ اسلام کے سب سے المناک اور عظیم واقعے، یعنی واقعہ کربلا (61 ہجری) کے میدانِ جنگ کا ایک نقشہ اور خاکہ پیش کرتی ہے۔ اس تصویر میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے خیموں، یزیدی فوج کی پوزیشن اور دریاۓ فرات کی صورتحال کو دکھایا گیا ہے۔
اس واقعے کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:
واقعہ کربلا کا پس منظر
یہ واقعہ 10 محرم 61 ہجری (بمطابق 680 عیسوی) کو موجودہ عراق کے شہر کربلا میں پیش آیا۔ یہ جنگ نواسہ رسول، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور اموی خلیفہ یزید بن معاویہ کی فوج کے درمیان ہوئی۔ یزید نے اقتدار سنبھالنے کے بعد امام حسین رضی اللہ عنہ سے بیعت کا مطالبہ کیا تھا، جسے انہوں نے اصولوں، حق اور انصاف کی خاطر سختی سے مسترد کر دیا۔
اہم مقامات
امام حسین رضی اللہ عنہ کا خیمہ اور اہل بیت کے خیمے: نقشے کے بائیں جانب امام حسین رضی اللہ عنہ، ان کے خاندان (اهل بیت) اور خواتین کے خیمے دکھائے گئے ہیں۔ ان خیموں کی تعداد بہت کم تھی کیونکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف ان کے اہل خانہ اور چند وفادار ساتھی (تقریباً 72 نفوس) تھے۔
یزید کی فوج: دائیں جانب ایک بہت بڑا لشکر اور بے شمار سرخ خیمے دکھائے گئے ہیں، جو یزیدی فوج کی کثرت (ہزاروں کی تعداد) کو ظاہر کرتے ہیں۔
دریائے فرات (فرات دریا): نیچے کی طرف بہتا ہوا دریا دکھایا گیا ہے۔ یزیدی فوج نے امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے چھوٹے بچوں پر اس دریا کا پانی بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے اہل بیت کئی دن تک پیاسے رہے۔
مقدس مقامات اور شہادت گاہیں: نقشے میں عباس کا فرنٹ، علی اکبر کی شہادت گاہ، عباس کی شہادت گاہ اور امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت گاہ کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں ان ہستیوں نے حق کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔
راستے: اس میں قدیم تجارتی راستے، کوفہ روڈ اور شام روڈ کو بھی واضح کیا گیا ہے۔
واقعے کا نتیجہ اور پیغام
جنگ کے دوران امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے تمام ساتھیوں (بشمول ان کے چھ ماہ کے بیٹے علی اصغر) کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا گیا اور خواتین کو قیدی بنا لیا گیا۔
"کربلا صرف ایک جنگ نہیں ہے، یہ حق اور باطل کے درمیان ایک ابدی پیغام ہے۔"
ظاہری طور پر یزید یہ جنگ جیت گیا تھا، لیکن اخلاقی اور روحانی طور پر امام حسین رضی اللہ عنہ کو فتح حاصل ہوئی کیونکہ انہوں نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا کو پوری دنیا میں ظلم کی انتہا کہا گیا ہے...