Tanawal Steel Traders

Tanawal Steel Traders اپکا اعتماد،اور بھروسہ ہماری کامیابی۔وزن مقدار اور کو?

مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔؟کل فیکے کمہار کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔سارے گاؤں میں اس کا چرچا...
08/05/2024

مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔؟

کل فیکے کمہار کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔
سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔
جانے کون ملنے آیا تھا۔۔
میں جانتا تھا فیکا پہلی فرصت میں آ کر مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔۔
وہی ہوا شام کو تھلے پر آ کر بیٹھا ہی تھا کہ فیکا چلا آیا۔۔۔
حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔ صاحب جی کئی سال پہلے کی بات ہے آپ کو یاد ہے ماسی نوراں ہوتی تھی وہ جو بھٹی پر دانڑیں بھونا کرتی تھی۔۔۔ جس کا اِکو اِک پُتر تھا وقار۔۔۔
میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔

اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی، وقار اور میں پنجویں جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔
سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ میں پیڑ ہوتی تھی۔۔۔
صاحب جی اک نُکرے لگا روتا رہتا تھا۔۔۔
ماسٹر جی ڈانٹ کر اسے گھر بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھا اور دوائی لے۔۔۔
اک دن میں ادھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔ میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا اور اچار کھولا۔۔۔
صاحب جی اج وی جب کبھی بہت بھوک لگتی ہے نا۔۔۔ تو سب سے پہلے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا ہی یاد آتا ہے۔۔۔اور سارے پنڈ میں اُس پراٹھے کی خوشبو کھنڈ جاتی ہے۔۔۔
پتہ نئیں صاحب جی اماں کے ہاتھ میں کیا جادو تھا۔۔۔

صاحب جی وقار نے پراٹھے کی طرف دیکھا اور نظر پھیر لی ۔۔۔ اُس ایک نظر نے اُس کی ٹِڈھ پیڑ کے سارے راز کھول دیئے۔۔۔ میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں میں آندروں کو بھوک سے بلکتے دیکھا۔۔۔ صاحب جی وقار کی فاقوں سے لُوستی آندریں۔۔۔ آنسوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھیں جیسے کہتی ہوں۔۔۔ اک اتھرو بھی گرا تو بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔
وقار کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے ہی میں نے اُس کی منتیں کر کے اُس کو کھانے میں ساتھ ملا لیا۔۔۔
پہلی بُرکی ٹِڈھ میں جاتے ہی وقار کی تڑپتی آندروں نے آنکھوں کے ذریعہ شکریہ بھیج دیا۔۔۔
میں نے چُپکے سے ہاتھ روک لیا اور وقار کو باتوں میں لگاۓ رکھا۔۔۔
اس نے پورا پراٹھا کھا لیا۔۔۔ اور فیر اکثر ایسا ہونے لگا۔۔۔ میں کسی نہ کسی بہانے وقار کو کھانے میں ساتھ ملا لیتا ۔۔۔
وقار کی بھوکی آندروں کے ساتھ میرے پراٹھے کی پکی یاری ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔ اور میری وقار کے ساتھ۔۔۔
خورے کس کی یاری زیادہ پکی تھی۔۔۔؟
میں سکول سے گھر آتے ہی بھوک بھوک کی کھپ مچا دیتا ۔۔۔ ایک دن اماں نے پوچھ ہی لیا۔۔۔ پُتر تجھے ساتھ پراٹھا بنا کے دیتی ہوں کھاتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔ اتنی بھوک کیوں لگ جاتی ہے تجھے۔۔۔؟ میرے ہتھ پیر پھول جاتے ہیں تو آتے ہی بُھوک بُھوک کی کھپ ڈال دیتا ہے ۔۔۔ جیسے صدیوں کا بھوکا ہو ۔۔۔
میں کہاں کُچھ بتانے والا تھا صاحب جی۔۔۔ پر اماں نے اُگلوا کے ہی دم لیا۔۔۔ ساری بات بتائی اماں تو سن کر بلک پڑی اور کہنے لگی۔۔۔ کل سے دو پراٹھے بنا دیا کروں گی۔۔۔ میں نے کہا اماں پراٹھے دو ہوۓ تو وقار کا بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔ میں تو گھر آ کر کھا ہی لیتا ہوں۔۔۔ صاحب جی اُس دن سے اماں نے پراٹھے کے ول بڑھا دیئے اور مکھن کی مقدار بھی۔۔۔
کہنے لگی وہ بھی میرے جیسی ماں کا پتر ہے۔۔۔
مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے۔۔۔
مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔؟

میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔ پانچویں جماعت میں پڑھنے والے فیکے کو بھرم رکھنے کا پتہ تھا۔۔۔
بھرم جو ذات کا مان ہوتا ہے۔۔۔ اگرایک بار بھرم ٹوٹ جاۓ تو بندہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔ ساری زندگی اپنی ہی کرچیاں اکٹھی کرنے میں گزر جاتی ہے۔۔۔ اور بندہ پھر کبھی نہیں جُڑ پاتا۔۔۔ فیکے کو پانچویں جماعت سے ہی بھرم رکھنے آتے تھے۔۔۔ اِس سے آگے تو وہ پڑھ ہی نہیں سکا تھا۔۔۔ اور میں پڑھا لکھا اعلی تعلیم یافتہ۔۔۔ مجھے کسی سکول نے بھرم رکھنا سکھایا ہی نہیں تھا۔۔۔

صاحب جی اس کے بعد امّاں بہانے بہانے سے وقار کے گھر جانے لگی۔۔۔ “دیکھ نوراں ساگ بنایا ہے ہے چکھ کر بتا کیسا بنا ہے” وقار کی اماں کو پتہ بھی نہ چلتا اور اُن کا ایک ڈنگ ٹپ جاتا۔۔۔
صاحب جی وقار کو پڑھنے کا بہت شوق تھا پھر اماں نے مامے سے کہہ کر ماسی نوراں کو شہر میں کسی کے گھر کام پر لگوا دیا۔۔۔ تنخواہ وقار کی پڑھائی اور دو وقت کی روٹی طے ہوئی۔۔۔ اماں کی زندگی تک ماسی نوراں سے رابطہ رہا۔۔۔ اماں کے جانے کے چند ماہ بعد ہی ماسی بھی گزر گئی۔۔۔ اُس کے بعد رابطہ ہی کُٹ گیا۔۔۔

کل وقار آیا تھا۔۔۔ ولایت میں رہتا ہے جی۔۔۔۔ واپس آتے ہی ملنے چلا آیا۔۔۔ پڑھ لکھ کر بڑا وڈا افسر بن گیا ہے جی۔۔۔ مجھے لینے آیا ہے صاحب جی۔۔۔ کہتا تیرے سارے کاغذات ریڈی کر کے پاسپورٹ بنڑوا کر تجھے ساتھ لینے آیا ہوں

اور ادھر میری اماں کے نام پر لنگر کھولنا چاہتا ہے جی۔۔۔

صاحب جی میں نے حیران ہو کر وقار سے پوچھا۔۔۔ یار لوگ سکول بنڑواتے ہیں ہسپتال بنڑواتے ہیں تو لنگر ہی کیوں کھولنا چاہتا ہے اور وہ بھی امّاں کے نام پر۔۔۔؟

کہنے لگا۔۔۔ فیکے بھوک بڑی ظالم چیز ھے، چور ڈاکو بنڑا دیتی ہے۔۔۔۔خالی پیٹ پڑھائی نہیں ہوتی۔۔۔۔ ٹِڈھ پیڑ سے جان نکلتی ہے۔۔۔۔۔۔ تیرے سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہے فیکے ۔۔۔ سارے آنکھیں پڑھنے والے نہیں ھوتے۔۔۔ اور نہ ہی تیرے ورگے بھرم رکھنے والے۔۔۔ پھر کہنے لگا۔۔۔ یار فیکے تجھے آج ایک بات بتاؤں۔۔۔ جھلیا میں سب جانتا ہوں۔۔۔ چند دنوں کے بعد جب پراٹھے کے ول بڑھ گئے تھے اور مکھن بھی۔۔۔ آدھا پراٹھا کھا کے ہی میرا پیٹ بھر جاتا تھا۔۔۔ اماں کو ہم دونوں میں سے کسی کا بھی بھوکا رہنا منظور نہیں تھا فیکے ۔۔۔ وقار پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔
اماں یہاں بھی بازی لے گئی صاحب جی۔۔۔

اور میں بھی اس سوچ میں ڈُوب گیا کہ
لُوستی آندروں اور پراٹھے کی یاری زیادہ پکی تھی یا ؟۔۔
فیکے اور وقار کی۔؟۔
بھرم کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے کبھی ٹوٹا نہیں کرتے۔۔۔
فیکا کہہ رہا تھا مُجھے امّاں کی وہ بات آج بھی یاد ہے صاحب جی۔۔۔ اُس نے کہا تھا۔۔۔ مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی فیکے۔۔۔ مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔ اُس کے ہاتھ تیزی سے پراٹھے کو ول دے رہے تھے۔۔۔ دو روٹیوں جتنا ایک پیڑا لیا تھا امّاں نے صاحب جی۔۔۔
میں پاس ہی تو چونکی پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔

منقول

24/07/2022
We Love You Team Pakistan
11/11/2021

We Love You Team Pakistan

01/02/2021

کاروبار کے کچھ اصول. پہلا حصہ
1-جہاں کاروبار کرنا ہو جگہ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں مثال کے طور پر گاؤں میں گارمنٹس کی دکان اور شہر میں زرعی اجناس کی دکان کھولیں گے تو یہ بیوقوفی ھے۔
2-جتنا آ پ کے پاس سرمایہ ہے اس سے کم انویسٹمنٹ کریں۔
3-سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں مت رکھیں۔
4- پلاننگ بہت ضروری ہے لیکن کامیابی کے لیے عملی قدم اٹھانا بہت ضروری ہے۔
5-کاروبار کے آ غاز میں مشکلات ضرور آ ئیں گی ہمت مت ہارنا جہاں چیز گم ہوتی ہے ملتی بھی وہیں سےہے۔
6-اگر آ پ وقت نہیں دے سکتے تو کبھی بھی دکان مت کھولیں۔
7-مسکراہٹ کو بھی اپنی انویسٹمنٹ میں شامل کریں۔
8-کاروبار کے آ غاز میں جتنا ہو سکے ادھار سے بچیں۔
9-کاروبار میں ہمیشہ سخاوت سے کام لینا چاہیے
10- آ پ جتنا مرضی ترقی کر جائیں ٹیم بیشک بنائیں لیکن ڈرائیونگ سیٹ ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔
11- روزنامچہ ضرور بنائیں جس میں روز کا حساب لیکھیں۔
12-کاروبار میں سے زکوٰۃ ضرور نکالا کریں ورنہ آ پ جتنا مرضی نفع کما لیں وہ نفع ڈاکٹر صاحب لے لیں گے۔
یہ وہ باتیں ہیں جو میں نی سیکھی ہیں۔اور باتیں انشاللہ اگلی پوسٹ میں لکھوں گا۔

Qari Imran Sahib A Great Personality
31/01/2021

Qari Imran Sahib A Great Personality

29/12/2020

بسلسلہ بلڈنگ کںسٹرکشن کے معاملات میں رہنمائی۔۔۔
آج کا ٹاپک : گھر کی لاگت کے بارے میں معلومات۔
اکثر لوگوں کا سوال ہوتا ہے کہ فلاں مرلے یا سائز کا گھر یے ہم نے اس پر ایک یا دو منزلیں بنانی ہیں تو کتنا خرچہ آئیگا اندازہ بتا دیں۔
تو ان سوالوں کا جواب اور اعتراضات سب کا جواب اس تحریر میں موجود ہے۔
کس گھر پر کتنی لاگت آئیگی یہ اس وقت تک اندازہ نہیں لگایا جاسکتا جب تک گھر کا نقشہ، مٹیریل ریٹ کی تفصیل نہ ہو۔
5مرلہ گھر کی بنیاد زیادہ سے زیادہ روڈ سے صرف 3 فٹ نیچے سے اٹھا لی جاتی ہے تین فٹ نیچے دو فٹ بعیر
یعنی کل بنیاد بنے گی صرف 5 فٹ کی، اب یہی کام میں کس کسی ایسے شہر میں جہاں زمین بھی تھوڑی نرم ہو اور علاقائی طور پر وہاں گھر بھی روڈ سے 4,5 فٹ اٹھا کر بنایا جاتا ہو تو انکی بنیاد اکثر 10-12 تک چلی جاتی ہے، تو ان دونوں گھروں کی لاگت ایک ہی کلیے سے کیسے نکال سکتے ہیں ؟
ٹھیک ٹھاک فرق آجائیگا،
پھر اسی طرح سینٹرل پنجاب ہو یا اسلام آباد راولپنڈی یہاں اب اینٹ 13 روپے تک جا پہنچی ہے لیکن یہی اینٹ فتح جنگ وغیرہ میں صرف 8 روپے کی مل جاتی ہے تو وہ کلیہ ان علاقوں پر بھی اپلائی نہیں ہوتا،
آگے چلیں تو اگر کمرے چھوٹے ہیں جیسے 10ضرب 12 کے تو ان میں سریا 8 انچ اسپیس پر بھی ڈالا جاسکتا ہے، لیکن 5 مرلے کا ایک ہی پورا حال ہے تو اسکے لیے اسے بیم بھی دینے ہیں، کالم بھی چھت میں بھی ٹھیک ٹھاک ایکسٹرا سریا ڈالنا ہے وغیرہ،
اسٹرکچر کا ریٹ نکالنا بہت آسان ہے، پہلے تو اسکے لیے نقشہ بنوائیں وہ بہت ضروری ہے اور جس سے بھی نقشہ بنوائیں اسے اپنی زمین کی ساخت بتائیں اور کہیں کہ ہمیں مٹیریل چارٹ بھی بنا کر دیں،
(نقشہ بنا ہو تو کسی اچھے سول انجینیئر کے لیے یہ کام 1 گھنٹے سے زیادہ کا نہیں ہے) ، آپ اب اپنے علاقے کے ریٹس لے کر ضرب کردیں اور لیں اندازہ نہیں بلکہ بالکل پرفیکٹ ریٹ نکل آئیگا کہ اتنی لاگت آئئگی۔
اب اگر ہم فنشنگ کی بات کریں یعنی تیار گھر تو ایک گھر میں باتھ رون میں لگنے والی انگلش سیٹ 4ہزار کی بھی مل جاتی ہے اور وہی سیٹ گروہی یا کسی اور انٹرنیشنل برینڈ کی استعمال کریں تو وہ ایک لاکھ روپے تک بھی ہے، اسی طرح ٹائل ہے تو 500 روپے فی میٹر بھی موجود ہے اور 5000 روہے فی میٹر بھی ہے، یہی حساب لکڑی، بجلی کا کام، کھڑکیاں وغیرہ سب میں ہے تو جب تک مکمل تفصیل نہیں ہوگی تب تک یہ اندازہ کرنا کہ گھر کی لاگت کیا ہے مشکل ہے بتایا تو جاسکتا ہے لیکن اس میں ٹھیک ٹھاک فرق آسکتا ہے، اور اسی طرح تقریبا ہر چیز کے ریٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
اب اگر ہم عمومی ریٹس کی بات کریں تو عام طور پر رہائشی گھر 800-1100 روہے تک میں چھت یعنی صرف اسٹرکچر، 1300-1600 میں گرے اسٹرکچر (ڈھانچے کے علاوہ، پلستر، پلمبنگ کے پائپ، دیواروں میں بجلی کے پائپ،فرشوں کے لیے کچے ہوجاتے ہیں، اور فنش گھر 1800 روپے فی مربع فٹ سے لیکر 4000 روپے فی مربع فٹ تک جاتا ہے۔
یہ مختلف اسٹینڈرڈ ہوتے ہیں جنہیں ہم بی کلاس، اے کلاس، اور اے پلس کہتے ہیں، اے پلس نارمل بنیاد کے ساتھ کم از کم 3200 اور زیادہ سے زیادہ ہم نے 6200 روپے فی مربع فٹ والا بھی دیکھا یے۔ پیج کو لائیک ضرور کریں

اور زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ زیادہ لوگوں کو فائدہ ہو
Tanawal Steel Traders

14/12/2020
ناقص اور غیر معیاری میٹیریل آپکی عمر بھر کی کمائی اور خوابوں پر پانی پھیر سکتا ہے اسلیے ملتے جلتے ناموں سے دھوکہ مت کھائ...
14/12/2020

ناقص اور غیر معیاری میٹیریل آپکی عمر بھر کی کمائی اور خوابوں پر پانی پھیر سکتا ہے اسلیے ملتے جلتے ناموں سے دھوکہ مت کھائیے۔ آعلی کوالٹی کی ضمانت اور مناسب ریٹ کے لیے تناول سٹییل پر آئیں کیونکہ آپ ہی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔
تناول سٹیل ٹریڈرز 03348889009

Address

Chappar Road, Near Madina CNG, Opposite AlRayan Plaza
Haripur
22620

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 08:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923348889009

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tanawal Steel Traders posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tanawal Steel Traders:

Share