Gujarkhan Properties and Rajpoot Real Estate

Gujarkhan Properties and Rajpoot Real Estate گوجرخان شہر اور ملحقہ علاقہ میں پراپرٹی کی خریدو
فروخت

19/09/2024






بڑکی جدید، غوری شادی ہال والی گلی میں بجلی ، گیس اور پانی کی سہولت کے ساتھ چھوٹا سا مکان براۓ فروخت
07/04/2024

بڑکی جدید، غوری شادی ہال والی گلی میں بجلی ، گیس اور پانی کی سہولت کے ساتھ چھوٹا سا مکان براۓ فروخت

اسلام آباد کو  مملکتِ خداداد پاکستان  کا  دارالحکومت  بنانے کا اعلان 1959 ء میں ہوا ۔  اس سے قبل اس سرزمین پر کم وبیش 16...
12/12/2023

اسلام آباد کو مملکتِ خداداد پاکستان کا دارالحکومت بنانے کا اعلان 1959 ء میں ہوا ۔ اس سے قبل اس سرزمین پر کم وبیش 160 دیہات آباد تھے ۔
ارضِ اسلام آباد کا قدیم نام راج شاہی تھا ۔
ماہرین ارضیات کی تحقیق کے مطابق یہاں پر لاکھوں سال پرانے انسانی قدموں کے نشانات ملے ہیں۔ یہاں انسانی ذندگی کے آثار بہت پرانے ہیں۔
اس تحقیق کی بنیاد وہ فوسلز تھے جو دریائے سواں کے ارد گرد کے علاقے مورگاہ گڑھی شاہاں سواں کیمپ سے ملے ہیں۔

ماہر ارضیات ڈی ۔این واڈیا نے 1928 میں دریائے سواں کے کنارے ایسے اوزاروں کا پتہ چلایا ہے جو پتھر کے بنے ہوئے اوزار استعمال کرنے سے بھی قبل کا زمانہ ہے ۔

مورخ اگر اس دھرتی کے ماضی پر نظر دوڑائے تو اسے ہر سیکٹر یا سب سیکٹر میں ایک گاوں آباد نظر آئے گا ۔ بلکہ اس کے اولین آباد کار بمعہ اپنے شجرہ نسب کے آباد دکھائ دیں گے ۔ دیہاتوں کے ناموں کی وجہ تسمیہ بھی اپنی الگ شناخت ظاہر کرتی ھے۔

شہر کی تعمیر کے دوران مارگلہ کے دامن میں واقع بہت سے دیہات جیسے نورپور شاہاں، شاھدرہ سیدپور اور گولڑہ شریف کو اسلام آباد کا دیہی علاقہ قرار دیکر ان کی اصل شکل کو برقرار رکھا گیاہے ۔ اس دیہی علاقے کا مجموعی رقبہ ٣٨٩٠٦ مربع کلومیٹر ہے

سیدپور اور شاہ اللہ دتہ قدیم ترین دیہات ہیں سید پور کا پرانا نام فتح پور باولی تھا اسے پہلے پہل مغلوں کے ایک بزرگ مرزا فتح بیگ نے 1530 میں آباد کیا تھا ۔ 1580 میں مان سنگھ نے کابل جاتے ہوئے سید خان گکھڑ کو یہ جاگیر عطا کی ۔ بعد میں سید خان کی مناسبت سے اس کا نام سیدپور رکھا گیا ۔ سید خان سلطان سارنگ خان کی اولاد میں تھے۔ سیدپور کو قدیم دور سے ہی اہمیت حاصل رہی ہے ۔ ،1849 میں یہاں انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر قبضہ کیا تھا ۔ یہاں ہندوں کے مشہور استھان رام کنڈ ، لچھمن کنڈ اور مندر تھا جس کے آثار اب بھی موجود ہیں ۔ مشرف دور میں سیدپور کو ماڈل ویلیج کا درجہ دیکر اپ گریڈ کیا گیا ۔ اس گاوں میں گکھڑ برادری کی اکثریت ہے جبکہ جنجوعہ راجپوت، اعوان، پیرکانجن مغل، دھنیال، گوجر، منہاس، راجپوت، بھٹی اور سید بھی آباد ہیں ۔

سیدپور سے منسلک قدیمی آبادیوں میں چک ، بیچو، میرہ ، ٹیمبا ،بڑ ، جنڈالہ ہیلاں شامل تھے ،ٹیمبا میں پاکستان کی سب سے بڑی مسجد فیصل مسجد قائم ہے بڑ موجودہ ایف 5 کا علاقہ ہے ۔

سیکٹر ای سیون میں ڈھوک جیون نام کی بستی تھی جسے جیون گوجر نے گجرات سے آ کر آباد کیا تھا۔

سیکٹر جی 5 میں کٹاریاں گاوں آباد تھا آج کل یہاں وزارت خارجہ کے دفاتر ہیں کٹاریاں گاوں کے باشندوں کو سیکٹر آئ نائن کے سامنے راولپنڈی کی حدود میں متبادل جگہ دی گئ ۔ جسے آجکل نیوکٹاریاں کہا جاتا ہے ۔ یہ گوجروں کی کٹاریہ گوت سے منسوب ہے۔

چڑیا گھر کے سامنے سیکٹر ایف 6 میں بانیاں نام کی بستی تھی جس کے اولین آباد گوجروں نے اپنی گوت بانیاں کے نام پر اس کا نام رکھا ۔

اسلام آباد میں گوجر قوم کی آباد کردہ بستیوں میں ٹھٹھہ گوجراں، کنگوٹہ گوجراں ،کٹاریاں بھڈانہ بانیاں ،نون، بوکڑہ،داداں گوجراں،گوراگوجر ،جہاری گوجر ، بھڈانہ کلاں ،بھڈانہ خورد ،پوسوال ،ڈھوک گوجراں ، ڈھوک جیون ، جبی، بڈھو ،روملی، نڑیاس ،نڑیل شامل ہیں ۔

راولپنڈی گزیٹئر 1884ءکے مطابق ضلع راولپنڈی کے109 دیہات کے مالکان گوجر تھے اور 62 دیہات گکھڑوں کی ملکیت تھے ۔ سیکٹر جی 10 کا پرانا نام ٹھٹھہ گوجراں تھا۔

شاہ اللہ دتہ اسلام آباد کا قدیم ترین گاوں متصور کیا جاتا ہے ۔ یہ تقریباً 650 سال قدیم گاوں ہے جہاں سینکڑوں سال پرانی غاریں قدیم فطری تہذیب اور مذاہب کا پتہ بتلاتی ہیں ۔
اسلام آباد سے بہارہ کہو جاتے ہوئے مری روڈ پر ملپور کی قدیم بستی واقع ہے۔ یہ گاوں بھی ابتدا میں قطب شاہی اعوانوں کا تھا اور راول ڈیم کی حدود کے اندر واقع تھا ۔بعد ازاں اسےنیو ملپور کے نام سے بسایا گیا ۔ یہ گاوں سردار بدھن خان اعوان نے پہلے پہل آباد کیا تھا بعد میں یہ گکھڑوں کی ملکیت میں آ گیا یہاں کمیال، گکھڑ، شیخ اور ملیار بھی آباد تھے 1976ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اسے ماڈل ویلج کا درجہ دیا تھا ۔

موجودہ کنونشن سنٹر کے قریب ڈھوک کی چھوٹی قسم ًڈھوکریً کے نام کا چھوٹا سا گاوں آباد تھا ۔ جو جو اسی ٨٠ کی دہائ تک ایک مزدور بستی کے طور پر آباد رہا بعد ازاں اس کا نشاں مٹ گیا ۔ البتہ ڈھوکری سٹاپ نے اس کے نام کو ذندہ رکھا ہوا ہے۔ موجودہ آبپارہ کے قریب باگاں یا باغ کلاں نام کی بستی تھی ۔اسلام آباد شہر کی تعمیر کی ابتدا اکتوبر 1961 میں اسی باغ کلاں گاوں سے کی گئ ۔
نور پور شاہاں حضرت شاہ عبدالطیف کی آمد سے قبل چور پور مشہور تھا ۔یہ علاقہ ایمان کی روشنی سے منور ہو کر نور پور کہلانے لگا ۔

راول ڈیم نالہ کورنگ پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ یہ نالہ مارگلہ اور مری کی زیریں پہاڑیوں کے چشموں اور برسات کے پانی سے سارا سال بھرا رہتا ہے ۔
ڈیم کے موجودہ رقبے میں کئ گاوں آباد تھے جن میں پھگڑیل ،شکراہ ،کماگری، کھڑپن اور مچھریالاں شامل تھے ۔

اسلام آباد کی حدود میں مارگلہ ہلز پر کئ دیہات زمانہ قدیم سے آباد ہیں جن میں تلہاڑ ،گوکینہ ،ملواڑ سرہ ، ، گاہ ،نڑیاس بڈھو شامل ہیں ۔ فیصل مسجد کے مغرب میں پہاڑوں پر کلنجر نام کی بستی آباد تھی ۔

موجودہ جناح سپر مارکیٹ کے قریب روپڑاں نام کی بستی تھی ۔گولڑہ شریف کے مالکان قطب شاہی اعوان تھے۔ ان کے اولین آباد کار نے اپنی شاخ گوڑہ کے نام پر اس مقام کا نام رکھا گیا ۔ میرا جعفر گولڑہ کے قریب ایک چھوٹا سا گاوں ہے اس کے ساتھ میرا سمبل جعفر نام کی بستی ہے ان دونوں گاوں کو جعفر نامی شخص نے آباد کیا ۔

ملک پور عزیزال کو ترکھان قبیلے نے آباد کیا ۔ یہاں کوکنیال اور مکنیال لوگ بھی آباد ہیں ۔

موہڑہ نگڑیال کو راجپوت قبیلے کی نگڑیال شاخ نے آباد کیا ۔
میرا بیگوال سملی ڈیم روڈ پر واقع ہے یہ پہاڑی کے قریب خوبصورت محل وقوع پر واقع ہے اسے دھنیال قبیلے نے آباد کیا ۔موضع تمیر کو دھنیال قبیلے کی شاخ رونیال نے آباد کیا ۔ کوری ، کرور،کرپا بند بیگوال چارہان اور میرا بیگوال دھنیال قبیلے کے مشہور دیہات تھے ۔

جھنگی سیداں موٹروے کے قریب اہم گاوں ہے اس کے مالکان سید تھے۔ جن کے نام پر اس کا نام رکھا گیا یہاں پر ان کی واضع اکثریت ہے ۔شاہ اللہ دتہ بھی سادات کی ملکیت ہے ۔

ہون دھمیال سہالہ ٹریننگ کالج کے قریب گاوں ہے اسے دھمیال قبیلے نے آباد ہے یہاں مٹھیال شاخ کے لوگ آباد ہیں ۔ ہردو گہر سہالہ کے قریب گاوں ہے یہ سواں ندی کے دو حصوں میں تقسیم ہے ڈھوک قاضیاں گہر راجگان چہال یاراں گہر نئ آبادی گھڑی اور دندی اس کی ذیلی بستیاں ہیں یہ کہوٹہ روڈ پر واقع ہے

علی پور اور فراش دو علیحدہ علیحدہ گاوں ہیں راول ڈیم سے سترہ کلومیٹر کے فاصلے پر لہتراڑ روڈ پر واقع ہیں۔ ان کی زمینیں ایکوائر کر لی گئ تھیں اس کے قریب پنجگراں نام کی بستی ہے ۔ علی پور کو اس کے اولین آباد بابا علی محمد کے نام پر رکھا گیا ۔ ابتدائ طور پر یہاں کھوکھر ،ملک آباد تھے بعد میں ڈھونڈ راجپوت بھٹی قاضی اور جنجوعہ بھی آباد ہوئے کری اور ترلائ کے قریب علی پور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اسلام آباد کی حدود میں آباد دیہاتوں اور قصبوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ گنگال اور ڈھوک للیال نامی گاوں کی زمینیں غوری ٹاون۔ اسلام آباد ائرپورٹ نور خان آئیر بیس کے رن وے کے نیچے بھی ہیں اور اسلام آباد ایکسپریس وے کے نیچے بھی ہیں۔ فضائیہ کالونی بھی ان دیہاتوں کی زمینوں پر آباد ہیں۔
اکثر بستیوں کی شناخت مٹ چکی ہے ان کی جگہ ماڈرن سیکٹر تعمیر ہو چکے ہیں

15/08/2023

جی ٹی روڈ گوجرخان اسٹیڈیم کے سامنے 35 مرلے رقبہ براۓ فروخت۔
کشادہ فرنٹ کے ساتھ مناسب ریٹ پہ دستیاب ہے۔
براۓ رابطہ۔
03455581317

21/03/2023
09/12/2022

تحصیل گوجرخان،

36 یونین کونسلز پر مشتمل تحصیل گوجر خان کی آبادی 2017 کے مطابق 6 لاکھ 78 ہزار پانچ سو تین افراد جبکہ اب 9 لاکھ کے قریب ہے، (ضلع تلہ گنگ 23 یو سی , آبادی 4 لاکھ ، جبکہ ضلع مری میں ڈیڑھ درجن سے بھی کم یونین کونسل اور آبادی 2 لاکھ 33 ہزار)
گوجرخان کے مشرق میں آزاد کشمیر کا ضلع میرپور اور منگلا ڈیم واقع ہیں، جنوب مشرق میں ضلع جہلم ، شمال میں تحصیل کہوٹہ، شمال مغرب میں تحصیل کلرسیداں اور راولپنڈی ، جنوب مغرب اور مغرب میں ضلع چکوال واقع ہے، یہ سطح سمندر سے 1512 فٹ بلند ہے،

گوجرخان شہر اس تحصیل کا صدرمقام اور ریلوے سٹیشن ہے، جو اسلام آباد سے 57 کلومیٹر اور لاہور سے 250 کلومیٹر مین جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ یہ خطہ پوٹھوہار کا دل سمجھا جاتا ہے۔ پنجابی زبان کا اہم ترین پوٹھوہاری لہجہ گوجرخان کے باسیوں کا ہی تصور کیا جاتا ہے۔
( 36 یونین کونسلز کے نام اور دیگر اہم گاؤں کے نام پہلے کمنٹ میں)

اس سرزمین نے سکندر اعظم، محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، شہنشاہ بابر، شیر شاہ سوری، نادرشاہ، احمد شاہ ابدالی، سمیت بڑے فاتحین کو دیکھا ہے، جو یہاں سے گزر کر ہندوستان پر حملہ آور ہوئے۔
گوجر خان کا ذکر غزنوی، عہد بابری میں بھی ملتا ہے، شیرشاہ سوری کے دور میں اہم سرائے تھا، آئین اکبری میں دھان گلی پرگنہ کا حصہ تھا۔ سکھ جنرل گوجرسنگھ نے 1787 میں اسے تحصیل ہیڈکوارٹر بنایا، بعض دیگر روایات کے مطابق چوہان نے اپنے بیٹوں گوجر خان، بھائی خان اور عمرخان کے نام پر تین قصبے آباد کیے۔
گوجرخان کو جی ٹی روڈ کی سب سے بڑی تحصیل شمار کیا جاتا ہے، یہ 1466 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے، جبکہ نئے بننے والے ضلع مری کا رقبہ 434 مربع کلومیٹر ہے،
تحصیل گوجر خان معدنیات سے مالامال ہے، آہدی مستالہ، مسہ کسوال، اور ٹوبرا سے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر عرصہ دراز سے نکالے جا رہے ہیں تاہم اس کے ثمرات سے اہل علاقہ محروم ہیں اور یہ تیل راولپنڈی کی اٹک ریفائنری سے صاف ہو کر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کراؤڈ آئل کی پاکستان میں سب سے زیادہ پروڈکشن آہدی آئل فیلڈ سے ہو رہی ہے۔ اس وقت آہدی کے چاروں اطراف میں 38 ویلز پروڈکشن کر رہے ہیں۔

تحصیل گوجر خان میں تقریباً 381 گاؤں ہیں، جبکہ مقابلتاً ضلع وزیر آباد میں 143, اور ضلع تلہ گنگ میں 140 دیہات ہیں۔

گوجرخان میں بڑی تعداد میں سکھ اور ہندو آباد تھے گلیانہ سکھ سمادھی، نڑالی اور ہریال ہندو ٹمپل، بیدی محل اس کی مثالیں ہیں،

گوجر خان کی مونگ پھلی ذائقہ اور کثرت کے اعتبار سے پورے ملک میں مشہور ہے، سکھو کا تلواں، اور دولتالہ کے شکرپارے بھی اہم سوغات ہیں۔

علاقے کی آبادی زراعت و کاروبار سے منسلک، آرمی و دیگر اداروں میں جاب رجحان زیادہ ہے، جبکہ علاقہ کی بہت بڑی تعداد بیرون ملک سیٹل ہے، جو کثیر زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔

علاوہ ازیں صنعت و حرفت بھی اہم جزو ہے، الہیٰ کاٹن ملز ، کوہ نور کاٹن ملز گلیانہ، پاکستان ٹوبیکو، صادق فیڈز، یونائیٹڈ فلور ملز ، کمال لیبارٹریز ، پوٹھوہار ونڈہ مل،مدینہ آئل مل ، لیسکو فیڈ مل ، المدینہ آئل مل، ماربل فیکٹریاں اہم صنعتیں ہیں۔

فضل شاہ کلیامی معظم شاہ جھلیاری والے، پیر عبداللہ شاہ بھنگالی شریف، محمد شاہ اور سید میں شاہ نذر اور شاہ دیوان تصوف کی معروف شخصیات گزری ہیں۔

اس دھرتی سے بڑے زرخیز ذہنوں نے جنم لیا جو ملک کے سب سے بڑے عہدوں پر براجمان ہوئے، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی ، سابق چیف جسٹس محمد افضل ظلہ، سابق جسٹس راجہ عبد العزیز بھٹی۔ چونڈہ کے مقام پہ شہادت پانے والے محمد اکثر شہید، پروفیسر احمد رفیق اختر، جنرل سوار وغیرہ اس دھرتی سے تعلق رکھتے ہیں،

گوجر خان کو شہیدوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے اور یہ پاکستان کی واحد تحصیل ہے جس کے دو فرزندوں نے بہادری کا سب سے بڑا ایوارڈ ، نشان حیدر حاصل کیا ہے، سنگھوری کے کیپٹین محمد سرور شہید اور سوار محمد حسین شہید۔

گوجر خان کشمیر بارڈر پر سنگنی قلعہ اور گوجرخان جہلم بارڈر پر پرتھوی راج چوہان کو ڈھائی سو دیگر راجاؤں سمیت شکست دینے والے شہاب الدین غوری کا مزار دھمیک کے مقام پر واقع ہے۔

کثیر آبادی، بڑے رقبے، کثیر زرمبادلہ اور ریونیو، انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ، دفاع سمیت ہر میدان میں اعلیٰ ترین خدمات دینے کے باوجود، ہر اعتبار سے ضلع کا سٹیٹس رکھنے کا حق رکھنے کے باوجود پوری تحصیل گوجرخان میں نہ تو کوئی یونیورسٹی ہے، نہ تمام سہولیات والا ہسپتال، نہ کوئی ریفائنری ، نہ ائیرپورٹ، نہ کوئی موٹروے، نہ میٹرو، ریلوے اسٹیشن میں اہم ٹرینیں نان سٹاپ گزر جاتی ہیں،

میرا مطالبہ ہے کہ گوجرخان کو ضلع بنا کر اس ناانصافی اور احساس محرومی کو ختم کیا جائے۔ اور ہم تیسرے درجے کے شہریوں کو بھی برابر کے حقوق فراہم کیے جائیں

Launching Ceremony of Ts smart city along with Muhammad Akmal Bhatti and Chairman TS smart city
09/12/2022

Launching Ceremony of Ts smart city along with Muhammad Akmal Bhatti and Chairman TS smart city

اسلام آباد کو  مملکتِ  پاکستان  کا  دارالحکومت  بنانے کا اعلان 1959 ء میں ہوا ۔  اس سے قبل اس سرزمین پر کم وبیش 160  دیہ...
27/04/2022

اسلام آباد کو مملکتِ پاکستان کا دارالحکومت بنانے کا اعلان 1959 ء میں ہوا ۔ اس سے قبل اس سرزمین پر کم وبیش 160 دیہات آباد تھے ۔
ارضِ اسلام آباد قدیم راولپنڈی کا حصہ تھا ۔
ماہرین ارضیات کی تحقیق کے مطابق یہاں پر لاکھوں سال پرانے انسانی قدموں کے نشانات ملے ہیں۔ یہاں انسانی ذندگی کے آثار بہت پرانے ہیں۔
اس تحقیق کی بنیاد وہ فوسلز تھے جو دریائے سواں کے ارد گرد کے علاقے مورگاہ گڑھی شاہاں سواں کیمپ سے ملے ہیں۔

ماہر ارضیات ڈی ۔این واڈیا نے 1928 میں دریائے سواں کے کنارے ایسے اوزاروں کا پتہ چلایا ہے جو پتھر کے بنے ہوئے اوزار استعمال کرنے سے بھی قبل کا زمانہ ہے ۔

مورخ اگر اس دھرتی کے ماضی پر نظر دوڑائے تو اسے ہر سیکٹر یا سب سیکٹر میں ایک گاوں آباد نظر آئے گا
شہر کی تعمیر کے دوران مارگلہ کے دامن میں واقع بہت سے دیہات جیسے نورپور شاہاں، شاھدرہ سیدپور اور گولڑہ شریف کو اسلام آباد کا دیہی علاقہ قرار دیکر ان کی اصل شکل کو برقرار رکھا گیاہے
سیدپور اور شاہ اللہ دتہ قدیم ترین دیہات ہیں سید پور کا پرانا نام فتح پور باولی تھا اسے پہلے پہل مغلوں کے ایک بزرگ مرزا فتح بیگ نے 1530 میں آباد کیا تھا ۔ 1580 میں مان سنگھ نے کابل جاتے ہوئے سید خان گکھڑ کو یہ جاگیر عطا کی ۔ بعد میں سید خان کی مناسبت سے اس کا نام سیدپور رکھا گیا ۔ سید خان سلطان سارنگ خان کی اولاد میں تھے۔ سیدپور کو قدیم دور سے ہی اہمیت حاصل رہی ہے ۔ ،1849 میں یہاں انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر قبضہ کیا تھا ۔ یہاں ہندوں کے مشہور استھان رام کنڈ ، لچھمن کنڈ اور مندر تھا جس کے آثار اب بھی موجود ہیں ۔ مشرف دور میں سیدپور کو ماڈل ویلیج کا درجہ دیکر اپ گریڈ کیا گیا ۔ اس گاوں میں گکھڑ برادری کی اکثریت ہے جبکہ جنجوعہ راجپوت، اعوان، پیرکانجن مغل، دھنیال، گوجر، منہاس، راجپوت بھٹی اور سید بھی آباد ہیں ۔

سیدپور سے منسلک قدیمی آبادیوں میں چک ، بیچو، میرہ ، ٹیمبا ،بڑ ، جنڈالہ ہیلاں شامل تھے ،ٹیمبا میں پاکستان کی سب سے بڑی مسجد فیصل مسجد قائم ہے جو کہ موجودہ ایف 5 کا علاقہ ہے ۔

سیکٹر ای سیون میں ڈھوک جیون نام کی بستی تھی جسے جیون گوجر نے گجرات سے آ کر آباد کیا تھا۔

سیکٹر جی 5 میں کٹاریاں گاوں آباد تھا آج کل یہاں وزارت خارجہ کے دفاتر ہیں کٹاریاں گاوں کے باشندوں کو سیکٹر آئ نائن کے سامنے راولپنڈی کی حدود میں متبادل جگہ دی گئ ۔ جسے آجکل نیوکٹاریاں کہا جاتا ہے ۔ یہ گوجروں کی کٹاریہ گوت سے منسوب ہے۔

چڑیا گھر کے سامنے سیکٹر ایف 6 میں بانیاں نام کی بستی تھی جس کے اولین آباد گوجروں نے اپنی گوت بانیاں کے نام پر اس کا نام رکھا ۔

اسلام آباد میں گوجر قوم کی آباد کردہ بستیوں میں ٹھٹھہ گوجراں، کنگوٹہ گوجراں ،کٹاریاں بھڈانہ بانیاں ،نون، بوکڑہ،داداں گوجراں،گوراگوجر ،جہاری گوجر ، بھڈانہ کلاں ،بھڈانہ خورد ،پوسوال ،ڈھوک گوجراں ، ڈھوک جیون ، جبی، بڈھو ،روملی، نڑیاس ،نڑیل شامل ہیں ۔

راولپنڈی گزیٹئر 1884ءکے مطابق ضلع راولپنڈی کے109 دیہات کے مالکان گوجر تھے اور 62 دیہات گکھڑوں کی ملکیت تھے ۔ سیکٹر جی 10 کا پرانا نام ٹھٹھہ گوجراں تھا۔

شاہ اللہ دتہ اسلام آباد کا قدیم ترین گاوں متصور کیا جاتا ہے ۔ یہ تقریباً 650 سال قدیم گاوں ہے جہاں سینکڑوں سال پرانی غاریں قدیم فطری تہذیب اور مذاہب کا پتہ بتلاتی ہیں ۔
اسلام آباد سے بہارہ کہو جاتے ہوئے مری روڈ پر ملپور کی قدیم بستی واقع ہے۔ یہ گاوں بھی ابتدا میں قطب شاہی اعوانوں کا تھا اور راول ڈیم کی حدود کے اندر واقع تھا ۔بعد ازاں اسےنیو ملپور کے نام سے بسایا گیا ۔ یہ گاوں سردار بدھن خان اعوان نے پہلے پہل آباد کیا تھا بعد میں یہ گکھڑوں کی ملکیت میں آ گیا یہاں کمیال، گکھڑ، شیخ اور ملیار بھی آباد تھے 1976ء میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اسے ماڈل ویلج کا درجہ دیا تھا ۔

موجودہ کنونشن سنٹر کے قریب ڈھوک کی چھوٹی قسم ًڈھوکریً کے نام کا چھوٹا سا گاوں آباد تھا ۔ جو ٨٠ کی دہائ تک ایک مزدور بستی کے طور پر آباد رہا بعد ازاں اس کا نشاں مٹ گیا ۔ البتہ ڈھوکری سٹاپ نے اس کے نام کو ذندہ رکھا ہوا ہے۔ موجودہ آبپارہ کے قریب باگاں یا باغ کلاں نام کی بستی تھی ۔اسلام آباد شہر کی تعمیر کی ابتدا اکتوبر 1961 میں اسی باغ کلاں گاوں سے کی گئ ۔
نور پور شاہاں حضرت شاہ عبدالطیف کی آمد سے قبل چور پور مشہور تھا ۔یہ علاقہ ایمان کی روشنی سے منور ہو کر نور پور کہلانے لگا ۔

راول ڈیم نالہ کورنگ پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ یہ نالہ مارگلہ اور مری کی زیریں پہاڑیوں کے چشموں اور برسات کے پانی سے سارا سال بھرا رہتا ہے ۔
ڈیم کے موجودہ رقبے میں کئ گاوں آباد تھے جن میں پھگڑیل ،شکراہ ،کماگری، کھڑپن اور مچھریالاں شامل تھے ۔

اسلام آباد کی حدود میں مارگلہ ہلز پر کئ دیہات زمانہ قدیم سے آباد ہیں جن میں تلہاڑ ،گوکینہ ،ملواڑ سرہ ، ، گاہ ،نڑیاس بڈھو شامل ہیں ۔ فیصل مسجد کے مغرب میں پہاڑوں پر کلنجر نام کی بستی آباد تھی ۔

موجودہ جناح سپر مارکیٹ کے قریب روپڑاں نام کی بستی تھی ۔گولڑہ شریف کے مالکان قطب شاہی اعوان تھے۔ ان کے اولین آباد کار نے اپنی شاخ گوڑہ کے نام پر اس مقام کا نام رکھا گیا ۔ میرا جعفر گولڑہ کے قریب ایک چھوٹا سا گاوں ہے اس کے ساتھ میرا سمبل جعفر نام کی بستی ہے ان دونوں گاوں کو جعفر نامی شخص نے آباد کیا ۔

ملک پور عزیزال کو ترکھان قبیلے نے آباد کیا ۔ یہاں کوکنیال اور مکنیال لوگ بھی آباد ہیں ۔

موہڑہ نگڑیال کو راجپوت قبیلے کی نگڑیال شاخ نے آباد کیا ۔
میرا بیگوال سملی ڈیم روڈ پر واقع ہے یہ پہاڑی کے قریب خوبصورت محل وقوع پر واقع ہے اسے دھنیال قبیلے نے آباد کیا ۔موضع تمیر کو دھنیال قبیلے کی شاخ رونیال نے آباد کیا ۔ کوری ، کرور،کرپا بند بیگوال چارہان اور میرا بیگوال دھنیال قبیلے کے مشہور دیہات تھے ۔

جھنگی سیداں موٹروے کے قریب اہم گاوں ہے اس کے مالکان سید تھے۔ جن کے نام پر اس کا نام رکھا گیا یہاں پر ان کی واضع اکثریت ہے ۔شاہ اللہ دتہ بھی سادات کی ملکیت ہے ۔

ہون دھمیال سہالہ ٹریننگ کالج کے قریب گاوں ہے اسے دھمیال قبیلے نے آباد ہے یہاں مٹھیال شاخ کے لوگ آباد ہیں ۔ ہردو گہر سہالہ کے قریب گاوں ہے یہ سواں ندی کے دو حصوں میں تقسیم ہے ڈھوک قاضیاں گہر راجگان چہال یاراں گہر نئ آبادی گھڑی اور دندی اس کی ذیلی بستیاں ہیں یہ کہوٹہ روڈ پر واقع ہے

علی پور اور فراش دو علیحدہ علیحدہ گاوں ہیں راول ڈیم سے سترہ کلومیٹر کے فاصلے پر لہتراڑ روڈ پر واقع ہیں۔ ان کی زمینیں ایکوائر کر لی گئ تھیں اس کے قریب پنجگراں نام کی بستی ہے ۔ علی پور کو اس کے اولین آباد بابا علی محمد کے نام پر رکھا گیا ۔ ابتدائ طور پر یہاں کھوکھر ،ملک آباد تھے بعد میں ڈھونڈ راجپوت بھٹی قاضی اور جنجوعہ بھی آباد ہوئے کری اور ترلائ کے قریب علی پور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اسلام آباد کی حدود میں آباد دیہاتوں اور قصبوں کی فہرست بہت طویل ہے اکثر بستیوں کی شناخت مٹ چکی ہے ان کی جگہ ماڈرن سیکٹر تعمیر ہو چکے ہیں
Source Pakistan Old Memories

02/03/2022

اسلام آباد پارک ویو سٹی کے ساتھ ملحقہ 380 کنال رقبہ برائے فروخت۔ بر لب روڈ اور بجلی موقع پر موجود ہے۔۔ قیمت صرف 40 لاکھ فی کنال
برائے رابطہ 03455581317

15/07/2021

Files are available in Taj Residencia housing Scheme..

5 marls plots on installments
For contact. 0345-5581317

Address

Gujar Khan

Opening Hours

Monday 17:30 - 22:00
Tuesday 17:30 - 22:00
Wednesday 17:30 - 22:00
Thursday 17:30 - 22:00
Friday 14:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 18:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+923455581317

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gujarkhan Properties and Rajpoot Real Estate posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Gujarkhan Properties and Rajpoot Real Estate:

Share