18/08/2026
نہیں ، میں نے یہ نہیں کہا ۔
تو پھر ؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک عام آدمی اپنی عقل استعمال ہی نہ کرے ؟
کیونکہ میں جہاں تک سمجھا ہوں کہ " دین صرف اُسی شخص سے لیا جائے جو اہل ہو " ۔
اِس بات سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ : بس کسی عالم کے سامنے بیٹھ جاؤ اور جو وہ کہے آنکھیں بند کرکے مانتے جاؤ ؟
تو کیا اللہ نے عقل صرف علماء کو دی ہے ؟ کیا عام آدمی قرآن میں غور و فکر نہیں کرسکتا ؟ قرآن تو بار بار کہتا ہے کہ تم غور کیوں نہیں کرتے ؟ تو کیا ہم غور کرنا چھوڑ دیں ؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے ایسا کبھی نہیں کہا ۔۔۔ نہ میں کہونگا ۔۔۔ میں انصاف کی بات کرنا جانتا ہوں ، وہی کرونگا ۔
اور انصاف کی بات یہ ہے کہ : جاری بحث میں مسئلہ عقل استعمال کرنے یا نہ کرنے کا ہی ہے نہیں بلکہ عقل کو اس کی " صحیح جگہ " استعمال کرنے کا ہے ۔
کہ اپنی عقل کہاں اور کب استعمال کرنی ہے اور کہاں اور کب کسی ماہر کی طرف رجوع کرنا ہے ؟
آج بس اتنی سی بات سمجھنی ہے!
ذرا اپنے گھر کی مثال لیجیے : فرض کیجئے آپ کے گھر میں بجلی کا کوئی مسئلہ پیدا ہوگیا ۔
اب ایسی صورت میں آپ کی عقل یہی فیصلہ کرے گی نا کہ چونکہ بجلی کا مسئلہ ہے تو کسی الیکٹریشن کو بلانا چاہیے ۔
بطور جملہ معترضہ : گلی کے نکڑ میں کھڑے ہینڈسم بوائے کو تو پکڑ کے نہیں لائیں گے ۔
لیکن یہ فیصلہ کہ تار کہاں سے گزارنی ہے ، کون سی تار استعمال کرنی ہے ، یہ کام آپ اس شخص کے سپرد کریں گے نا جو بجلی کے کام کا ماہر ہوگا ( ظاہر ہے ۔ )
بتائیے کیوں ؟ کیونکہ یہ اُس کا دائرۂ تخصص ہے۔
دائرۂ تخصص سے میری مراد یہ ہے کہ : وہ کام جسے کرنے کے لیے کسی خاص فن کا باقاعدہ علم ، تربیت اور مہارت درکار ہو۔
اِسی طرح آپ بیمار ہوں تو آپ اپنی عقل استعمال کرکے یہ فیصلہ کریں گے کہ اس وقت مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے ، فلاں ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے ، وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن جب آپریشن کا وقت آئے گا تو آپ اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر سے یہ نہیں کہیں گے : ڈاکٹر صاحب! میں نے بھی انٹرنیٹ پر کچھ پڑھا ہے ، آپریشن یہاں سے نہیں ، ذرا دوسری طرف سے کریں!
ویسے اگر آپ ایسا کچھ کہہ بھی دیں گے تو ممکن ہے کہ آپ کو احمقوں کے ہسپتال منتقل کردیا جائے ( مزاح کر رہا ہوں ) کم از کم لوگ تو کہیں گے نا کہ یہ کیسا بیوقوف آدمی ہے ۔
نہیں سمجھ آرہی بات تو یہ جملے تو سب سنتے آرہے ہیں !
آپ اپنا کام کریں ، ڈاکٹر کو اپنا کام کرنے دیں ، یہ مشورے گھر رکھ کر آیا کریں ، ہم یہاں جخ مارنے بیٹھے ہیں ؟
بتائیے یہ جملے آخر کیوں کہے جاتے ہیں ؟ اس لیے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر کام کا ایک اہل اور ماہر ہوتا ہے اور پھر عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آدمی اپنے دائرے اور ماہر کے دائرے میں فرق کرے۔
اور ایسے کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے اپنی عقل استعمال کرنا چھوڑ دی ہے بلکہ آپ نے تو عقل کا درست استعمال کرکے یہ تسلیم کیا ہے کہ : یہ کام میرے تخصص کا نہیں ، ڈاکٹر کے تخصص کا ہے۔
بس یہی بات دین کے معاملے میں بھی سمجھنی ہے۔
جیسے کچھ معاملات ایسے ہیں جہاں آپ کی عقل ، تجربہ اور مشاہدہ معتبر ہے۔
ایسے ہی کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ :
اللہ تعالیٰ کی مراد کیا ہے ؟
فرق سمجھ نہیں آرہا تو آپکی آسانی کیلئے ہم زندگی کو دو بڑے دائروں میں تقسیم کرسکتے ہیں :
پہلا : دائرۂ عام
یعنی وہ معاملات جن کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی ، دنیاوی تجربات ، مشاہدات ، انتظامی امور اور مختلف دنیاوی فنون سے ہے۔
مثلاً : گھر کس نقشے پر بنے ؟ مسجد کی عمارت کس انداز میں بنائی جائے ؟ بچوں کو پڑھانے کا بہتر طریقہ کیا ہو ؟ کسی ادارے کا انتظام کیسے کیا جائے ؟ زراعت کا کون سا طریقہ زیادہ فائدہ مند ہے ؟ کسی فلاحی کام کو کس طریقے سے زیادہ مؤثر بنایا جائے ؟
یہاں جس شخص کو متعلقہ فن کا زیادہ علم اور تجربہ ہے ، اس کی رائے زیادہ معتبر ہوگی ، یہاں کوئی ضروری نہیں کہ وہ عالمِ دین بھی ہو بلکہ اگر مسجد کی عمارت بنانی ہے تو ایک ماہر انجینئر کی رائے کسی عالم سے زیادہ اہم ہوگی ، کیونکہ سوال انجینئرنگ کا ہے۔
اگر بچوں کی تربیت کا کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے تو ماہرِ نفسیات کی رائے ایک عالم کی رائے سے زیادہ اہم ہوسکتی ہے ۔۔۔ اگر زراعت کا مسئلہ ہے تو ماہرِ زراعت کی بات سنی جائے گی کیونکہ ہر میدان ، ہر فن اور ہر سوال کا ایک اپنا ماہر ہوتا ہے۔
اور دوسرا ہے : دائرۂ تخصص۔
میں نے ابھی عرض کیا کہ کچھ معاملات ایسے ہیں جہاں سوال یہ نہیں کہ : ہمیں دنیا میں کیا بہتر لگتا ہے ؟
بلکہ سوال یہ ہے کہ : اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟
مثلاً : اس آیت کا صحیح مطلب کیا ہے ؟ اس حدیث کی صحت کیا ہے ؟ اس حدیث سے حکم کیسے نکالا جائے ؟ اس مسئلے میں حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے ؟ زکوٰۃ کے اس پیچیدہ مسئلے کا حکم کیا ہے ؟ وراثت کی اس خاص صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا ؟
چونکہ یہاں سوال خدا کی مراد سمجھنے کا ہوتا ہے اور خدا کی مراد معلوم کرنے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی قرآن پڑھ سکتا ہو ، عربی ترجمہ سمجھ لیتا ہو یا حدیث کے چند حوالے یاد رکھتا ہو ۔
( کیونکہ آیت پڑھ لینا اور آیت سے حکم نکال لینا دو الگ چیزیں ہیں اسی طرح حدیث کا حوالہ دے دینا اور حدیث سے شرعی حکم اخذ کرنا بھی دو الگ چیزیں ہیں! )
بلکہ یہاں باقاعدہ علوم درکار ہوتے ہیں :
عربی زبان کا علم ، حدیث کے اصولوں کا علم ، اصولِ فقہ کا علم ، عام و خاص ، مطلق و مقید ، ناسخ و منسوخ اور اس نوع کے دوسرے متعلقہ علوم۔
یہی وجہ ہے کہ ایک شخص بہت ذہین ہونے کے باوجود اگر ان علوم سے واقف نہیں تو وہ اپنی عقل سے خود شرعی احکام نکالنے کا اہل نہیں ہوجاتا۔
تو کل ملا کے خلاصہ یہ ہوا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ : دینی معاملات میں عام آدمی عقل استعمال نہ کرے۔
میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ : عام آدمی اپنی عقل استعمال کرکے پہلے یہ پہچانے کہ کون سا کام اس کے دائرے میں ہے اور کون سا کام کسی ماہر کے دائرے میں۔
یہی عقل کا بہترین استعمال ہے ۔۔۔ کیونکہ ، آپ کی عقل آپ کو بتاتی ہے کہ دل کا علاج سرجن سے کروانا ہے ۔۔۔ آپ کی عقل آپ کو بتاتی ہے کہ گھر کا نقشہ انجینئر سے بنوانا ہے ۔۔۔ آپ کی عقل آپ کو بتاتی ہے کہ عدالت کے پیچیدہ معاملے میں وکیل سے رجوع کرنا ہے۔
تو پھر یہی عقل جب دین کے پیچیدہ مسائل کے سامنے آئے گی تو اسے یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ : قرآن سے حکم نکالنا ، حدیث کی صحت پرکھنا اور پیچیدہ شرعی مسائل کا فیصلہ کرنا بھی ایک تخصص ہے اور یہاں کسی ایسے شخص کی ذاتی رائے صرف اس بنیاد پر معتبر نہیں ہوجاتی کہ وہ پڑھا لکھا ہے ، ذہین ہے یا اچھی گفتگو کرتا ہے۔
بہرحال ، عقل کو یہ منطق سمجھانی ہوگی کہ :
یہ مسئلہ میں خود سمجھ سکتا ہوں ہے یا کسی خاص علم اور تخصص کی ضرورت ہے ؟
اگر مسئلہ آپ کے دائرے کا ہے تو تحقیق کریں ، سوچیں ، تجربہ کریں ، مشورہ دیں ۔
اور اگر مسئلہ کسی خاص فن کا ہے تو اس فن کے اہل کی طرف رجوع کریں !
جیسے گھر کے معاملے میں : گھر کا رنگ کون سا ہو ؟ یہ آپ کی پسند ہے ، فرنیچر کہاں رکھا جائے ؟ یہ آپ کی رائے ہے ۔
لیکن ستون کتنا مضبوط ہونا چاہیے اور چھت کتنا وزن برداشت کرے گی ؟ یہاں انجینئر کی ضرورت ہے ۔
کیوں ؟ کیونکہ دونوں سوال ایک ہی گھر سے متعلق ہونے کے باوجود ایک ہی نوعیت کے سوال نہیں ہیں۔
بالکل اسی طرح دین سے متعلق ہر سوال بھی ایک ہی نوعیت کا نہیں ہوتا۔
اچھے اخلاق ، سچ بولنا ، والدین کی خدمت کرنا ، حسنِ سلوک اور بہت سی واضح دینی باتیں اپنی جگہ ہیں۔ ( اس پر آئندہ لکھونگا ، یہ سطر فقط اشارہ ہے )
لیکن جب پوچھا جائے کہ حضرت بتائیے : اس آیت سے شرعی حکم کیا نکلتا ہے ؟
اس حدیث کی صحت کے بارے میں اہل علم کا کیا کہنا ہے ؟ تو اب ہم دائرۂ تخصص میں داخل ہوچکے ہیں۔
اب یہاں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ : میں نے یہ سمجھا ہے ، میرے خیال میں اس کا مطلب یہ ہے ، مجھے تو یوں لگتا ہے۔
نہیں ، اب یہاں وہ شخص بیٹھے گا جو ماہرِ فن ہے ، جو اس فن کا اہل ہے ، جسے ہم اہلِ علم اور مستند عالم دین کہتے ہیں ۔۔۔ اور وہ پھر اپنے فن اور اپنے علم کے مطابق قرآن و حدیث کی ساری کڑیاں ملائے گا ۔۔۔ قرآن کو سمجھنے کے جو اصول صدیوں سے اہلِ علم کے ہاں چلے آرہے ہیں ، حدیث کے اصول ، اصولِ فقہ، صحابۂ کرامؓ کا فہم ، ائمہ اور فقہاء کا علمی منہج ، عام و خاص ، مطلق و مقید ، ناسخ و منسوخ اور متعلقہ تمام چیزوں کو سامنے رکھ کر اس مسئلے کو سمجھے گا۔پھر ان سب چیزوں کو سامنے رکھ کر ایک نتیجہ نکالے گا اور ہمیں بتائے گا کہ اس مسئلے میں شرعی حکم یہ ہے۔
لہٰذا "دین صرف اہلِ علم سے لیا جائے" کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی عقل گھر رکھ آؤ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی عقل سے پہلے یہ فیصلہ کرو کہ یہ کام میری دسترس کا ہے یا کسی ماہر کے دائرۂ تخصص کا۔
اور یہی درست رویہ اور طریقہ ہے ، یہی قرآن کا حکم ہے ، یہی رسول کا حکم اور صحابہ کرام طریقہ ہے ، یہی عقل والوں کی نشانی اور عقل کا درست استعمال ہے!
باقی آپ اس پر جتنی بحث کرلیں ، فضول ہے!
مدثر فاروقی ✒️