Asr-e-Nau & Islam

Asr-e-Nau & Islam دینِ اسلام کی روشنی اور جدید ٹیکنالوجی کی معلومات۔ اسلامی تعلیمات اور ٹیک ورلڈ کی تازہ ترین اپڈیٹس اب اردو تحریر میں۔

سرحد یونیورسٹی واقعے سے جڑے چند کڑوے سچسرحد یونیورسٹی (راوت کیمپس) میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ہمارے سیاسی و سماجی رویو...
25/08/2026

سرحد یونیورسٹی واقعے سے جڑے چند کڑوے سچ
سرحد یونیورسٹی (راوت کیمپس) میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ہمارے سیاسی و سماجی رویوں کا وہ المیہ ہے جہاں ’میرے پاس کون ہے‘ کا زعم، قانون اور اخلاقیات پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
یونیورسٹی کا ماحول اس وقت کشیدہ ہوا جب شعبہ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے ایچ او ڈی ڈاکٹر جدون خان ایڈووکیٹ اور یونیورسٹی کی ایچ آر مینیجر کے درمیان ایک معمولی انتظامی معاملے پر تکرار ہوئی۔ شاہدین کے مطابق ایچ آر مینیجر کا رویہ غیر مناسب تھا اور انہوں نے اپنے عہدے کا لحاظ رکھے بغیر گالیاں اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں جس نے معاملہ انتظامی حد میں سلجھانے کے بجائے مزید بڑھا دیا۔
ایچ آر مینیجر نے معاملات کو حل کرنے کے لیے ادارے کے طریقہ کار کو بائی پاس کیا اور پولیس کے ساتھ اپنے شوہر کو بلا لی جو کہ مسلح افواج کے ایک افسر ہیں۔ مذکورہ فوجی افسر اپنے نجی مسئلے کے لیے سرکاری وردی میں کیمپس پہنچے جہاں انہوں نے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے رعب جمانا شروع کیا اور ہاتھ میں موجود لاٹھی سے ایک بے گناہ طالب علم پر تشدد کیا۔
ساتھی طالب علم پر تشدد دیکھ کر دیگر طلبہ ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے، فوجی افسر پر تشدد شروع کیا، انہوں نے جان چھڑانے کے لیے پسٹل نکال کر پہلے سیدھی اور پھر ہوائی فائرنگ کر دی۔
افائرنگ کے اس سنگین واقعے اور طلبہ کے احتجاج کے بعد ملٹری حکام نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فوجی افسر کو تحویل میں لے لیا ہے اور قانونی کاروائی شروع کی ہے۔ اس پورے واقعے میں سب سے بڑا سبق ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے گھر، محلے یا دفتر کی ذاتی لڑائیوں میں اپنے افسر رشتہ داروں کو گھسیٹتے ہیں۔ جب آپ اپنے کسی شوہر، بھائی، یا بیٹے کی وردی اور رتبہ اپنی ذاتی انا اور ضد کی تسکین کے لیے استعمال کرتے ہیں تو آپ ان کی عزت کا تماشہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ ایک معمولی سے انتظامی جھگڑے میں فوج یا پولیس کے افسر کو بلوا کر رعب ڈالنے کی کوشش نے نہ صرف اس خاتون کو رسوا کیا بلکہ ان کے شوہر کی ملازمت، عزت اور وقار کو بھی داؤ پر لگا دیا۔
یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جب اداروں میں انتظامی کمیٹیاں، ڈسپلنری بورڈز اور پولیس جیسے قانونی ادارے موجود ہیں تو پھر نجی مسائل میں اپنے بااثر عزیزوں کا تماشہ بنانے کی کیا تک بنتی ہے؟
سرکاری اور ملٹری افسران کو بھی یہ بات اچھی طرح سمجھنی چاہیے کہ سرکاری وردی صرف ایک لباس نہیں، بلکہ ریاست کا وقار اور ذمہ داری ہے۔
اگر آپ کو اپنے بچوں، بیوی یا رشتہ داروں کے ذاتی جھگڑوں میں پڑنے کا اتنا ہی شوق ہے تو سول کپڑے پہنیں اور اپنی وردی اتار کر جائیں۔
ایک باپ یا شوہر کی حیثیت سے جا کر بات چیت کرنا انسان کا حق ہو سکتا ہے، لیکن سرکاری وردی پہن کر، لاٹھی لہرانا اور پستول سے رعب جمانا شایان شان نہیں ہوتا۔ جب ایک افسر وردی میں ذاتی کاموں کے لیے سڑکوں یا کیمپسز میں غنڈہ گردی کرتا ہے تو اس سے پورے ادارے کا ایمج اور وقار مجروح ہوتا ہے۔👇👇👇
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579333593633

**🚨 عالمی فوجی تاریخ کا سب سے بڑا پاور شفٹ: کیا دنیا میں کسی عسکری سربراہ کے پاس اتنے اختیارات ہیں؟ 🚨** سوشل میڈیا پر اس...
24/08/2026

**🚨 عالمی فوجی تاریخ کا سب سے بڑا پاور شفٹ: کیا دنیا میں کسی عسکری سربراہ کے پاس اتنے اختیارات ہیں؟ 🚨**

سوشل میڈیا پر اس وقت پاکستان کے نئے دفاعی نظام اور فیلڈ مارشل کے اختیارات کا دنیا کے دیگر بڑے ممالک کے ساتھ شدید موازنہ کیا جا رہا ہے۔ آئیں آپ کو بتاتے ہیں کہ وہ کون سے **10 تاریخی اور غیر معمولی اختیارات** ہیں جو دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک (امریکہ، روس، چین یا بھارت) کے فوجی سربراہ کے پاس اس شکل میں موجود نہیں ہیں! 🌍👇

# # # **1️⃣ آرمی چیف سے بالاتر اختیارات (Supreme Commander)**

* **پاکستان میں:** فیلڈ مارشل کو آئینی طور پر تمام افواج (بری، بحری، اور فضائیہ) کا سپریم کمانڈر تسلیم کیا گیا ہے، جو عام آرمی چیف سے بھی بالاتر عہدہ ہے۔
* **باقی دنیا میں:** امریکہ، بھارت، اور تمام جمہوری ممالک میں افواج کا "سپریم کمانڈر" صرف اور صرف ملک کا منتخب سویلین صدر یا وزیرِ اعظم ہوتا ہے، کوئی فوجی افسر نہیں۔

# # # **2️⃣ ملکی سلامتی کا سپریم اتھارٹی (National Security Control)**

* **پاکستان میں:** ملکی داخلہ و خارجہ سلامتی، دفاعی پالیسی، اور تمام اسٹرٹیجک فیصلوں کا حتمی اختیار فیلڈ مارشل کے پاس ہے۔
* **باقی دنیا میں:** امریکہ اور دیگر ممالک میں یہ اختیار 'نیشنل سیکیورٹی کونسل' (NSC) اور صدر کے پاس ہوتا ہے۔ فوج صرف پالیسی پر عمل کرتی ہے، پالیسی بناتی نہیں ہے۔

# # # **3️⃣ تمام مسلح افواج پر براہِ راست کنٹرول (Unified Command)**

* **پاکستان میں:** تینوں مسلح افواج (آرمی، نیوی، ائیر فورس) اور تمام دیگر اسٹرٹیجک ادارے براہِ راست فیلڈ مارشل کے ماتحت ہیں۔
* **باقی دنیا میں:** بھارت کے CDS یا امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس کے پاس تینوں افواج کی ایسی مشترکہ اور براہِ راست آپریشنل کمانڈ نہیں ہوتی۔ وہاں ہر فورس کا اپنا چیف آزادانہ کام کرتا ہے۔

# # # **4️⃣ جنگ اور امن کا حتمی فیصلہ (Power to Declare War)**

* **پاکستان میں:** جنگ چھیڑنے، جنگ بندی کرنے یا امن معاہدے کرنے کا حتمی اختیار صرف فیلڈ مارشل کے پاس ہے۔
* **باقی دنیا میں:** یہ دنیا کا سب سے منفرد اختیار ہے۔ دنیا بھر میں جنگ کا اعلان کرنے یا امن معاہدہ کرنے کا اختیار صرف **پارلیمنٹ (کانگریس)** یا سویلین حکومت کے پاس ہوتا ہے، فوج خود یہ فیصلہ کبھی نہیں کر سکتی۔

# # # **5️⃣ ایٹمی ہتھیاروں کا سپریم اختیار (Nuclear Command)**

* **پاکستان میں:** ملک کے ایٹمی اثاثوں کے استعمال، رکھ رکھاؤ اور اس سے متعلقہ پالیسی کا حتمی فیصلہ فیلڈ مارشل کے پاس ہے۔
* **باقی دنیا میں:** دنیا کی تمام ایٹمی طاقتوں (روس، امریکہ، فرانس، برطانیہ) میں نیوکلیئر بٹن اور اس کا حتمی کنٹرول سویلین سربراہ کے پاس محفوظ ہوتا ہے۔

# # # **6️⃣ قانون سے بالاتر تحفظ (Absolute Immunity)**

* **پاکستان میں:** فیلڈ مارشل کو قومی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے دوران کسی بھی عدالت میں طلب یا گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔
* **باقی دنیا میں:** مغربی اور ترقی یافتہ ممالک میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یا سروس کے دوران کسی بھی سنگین غلطی پر جرنیلوں کا سویلین عدالتوں یا کورٹ مارشل کے ذریعے ٹرائل کیا جا سکتا ہے۔

# # # **7️⃣ بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق (Treaty Ratification)**

* **پاکستان میں:** کوئی بھی بین الاقوامی دفاعی معاہدہ یا اتحاد فیلڈ مارشل کی توثیق (منظوری) کے بغیر نافذ نہیں ہو سکتا۔
* **باقی دنیا میں:** عالمی سطح پر دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں کی منظوری دینا وزارتِ خارجہ اور پارلیمنٹ کا کام ہوتا ہے، عسکری قیادت کا نہیں۔

# # # **8️⃣ دفاعی بجٹ اور وسائل پر مکمل اختیار (Budget Control)**

* **پاکستان میں:** ملک کے دفاعی بجٹ، وسائل، اور اسلحے کی خریداری پر فیلڈ مارشل کا مکمل اور حتمی اختیار ہے۔
* **باقی دنیا میں:** امریکہ یا برطانیہ میں فوج کو ایک ایک ڈالر کے بجٹ کی منظوری پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹیوں سے لینا پڑتی ہے، جہاں ان سے کڑا احتساب اور سوال جواب ہوتے ہیں۔

# # # **9️⃣ عمر بھر کے لیے عہدہ (Lifelong Tenure)**

* **پاکستان میں:** یہ عہدہ عمر بھر کے لیے محفوظ ہے اور فیلڈ مارشل صرف اپنی مرضی سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔
* **باقی دنیا میں:** دنیا کے تمام بڑے ممالک میں فوجی سربراہان کی مدتِ ملازمت (عام طور پر 3 سے 5 سال) مقرر ہوتی ہے، جس کے بعد وہ لازمی ریٹائر ہو کر عام شہری بن جاتے ہیں۔

# # # **🔟 قومی تحفظ کی سپریم گارنٹی (Supreme Guarantor)**

* **پاکستان میں:** فیلڈ مارشل کی حتمی ذمہ داری ملک، قوم اور افواج کے تحفظ، سالمیت اور وقار کی ضمانت بننا ہے۔
* **باقی دنیا میں:** دیگر ممالک میں آئین اور سویلین اداروں کی بالادستی کو ملک کی سالمیت کی ضمانت مانا جاتا ہے، کسی ایک فرد یا عہدے کو نہیں۔

# # # **📝 نتیجہ (Conclusion)**

حقائق کا موازنہ بتاتا ہے کہ یہ پاور سٹرکچر دنیا کے مروجہ دفاعی نظاموں سے بالکل مختلف اور غیر معمولی حد تک طاقتور ہے۔ جیسا کہ پوسٹ کے گرافک میں بھی لکھا ہے: *"ایک عہدہ نہیں، یہ قوم کی سلامتی، خودمختاری اور عزت کا غیر متزلزل عہد ہے"*۔

**آپ کا اس نئے دفاعی نظام اور اختیارات کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں!** 💭👇

اور ایسی ہی مزید دلچسپ معلومات کے لیے ہمارے پیج کو لائک شیئر اینڈ فالو کرنا مت بھولیں 👇👇👇👇👇👇
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579333593633

🌴 جدید دور کا معجزہ یا محض اتفاق؟ 😱اگر آپ سمجھتے ہیں کہ معجزے صرف پرانی داستانوں میں ہوتے ہیں، تو مئی 2023 میں کولمبیا ک...
19/08/2026

🌴 جدید دور کا معجزہ یا محض اتفاق؟ 😱
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ معجزے صرف پرانی داستانوں میں ہوتے ہیں، تو مئی 2023 میں کولمبیا کے ایمیزون جنگل میں پیش آنے والا یہ واقعہ آپ کو ضرور حیران کرے گا۔

ایک چھوٹا طیارہ کولمبیا کے خطرناک اور گھنے ایمیزون جنگل میں حادثے کا شکار ہوگیا۔ طیارے میں موجود پائلٹ اور بچوں کی والدہ جانبر نہ ہو سکے، لیکن وہاں موجود چار بہن بھائی زندہ بچ گئے۔

ان بچوں کی عمریں تھیں:

👧 13 سال
👧 9 سال
👦 4 سال
👶 صرف 11 ماہ

لیکن اصل امتحان اب شروع ہوا تھا...

چاروں بچے ایسے جنگل میں اکیلے رہ گئے جہاں گھنے درخت، خطرناک حشرات، سانپ اور مشکل ترین قدرتی حالات موجود تھے۔

کولمبیا کی فوج نے ان کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔ سینکڑوں اہلکار، ہیلی کاپٹر اور تربیت یافتہ سراغ رساں کتے جنگل کا چپہ چپہ تلاش کرتے رہے۔

دن گزرتے گئے...

پھر ہفتے گزر گئے...

40 دن گزر گئے!

امید تقریباً ختم ہونے لگی تھی کہ اتنے چھوٹے بچے اس خطرناک جنگل میں آخر کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟

لیکن پھر...

😭 وہ لمحہ آ گیا جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا!
فوجی اہلکاروں کو چاروں بچے زندہ مل گئے۔

13 سالہ بڑی بہن لیسلی نے اپنی سمجھ بوجھ اور جنگل سے واقفیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو سنبھالا۔

اس نے انہیں خطرات سے بچانے کی کوشش کی، خوراک تلاش کی اور سب سے چھوٹے، صرف 11 ماہ کے بچے کی بھی دیکھ بھال کرتی رہی۔

ایک طرف چار معصوم بچے...

دوسری طرف میلوں تک پھیلا ہوا خطرناک جنگل...

اور درمیان میں ایک 13 سالہ بچی جو اپنے تین چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے سہارا بنی ہوئی تھی۔ ❤️

جب امدادی اہلکار آخرکار بچوں تک پہنچے تو وہ منظر انتہائی جذباتی تھا۔

جس بچے کو دنیا تلاش کرتے کرتے تھک چکی تھی...

وہ زندہ تھا۔

جس کے بارے میں خدشہ تھا کہ شاید اب کبھی نہ ملے...

وہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ موجود تھا۔

یہ صرف بقا کی کہانی نہیں تھی۔

یہ ایک بڑی بہن کی ذمہ داری، حوصلے اور محبت کی کہانی بھی تھی۔ ❤️

🤔 لیکن سوال یہ ہے...
کیا یہ صرف ایک غیر معمولی اتفاق تھا؟

یا پھر ایسے حالات میں بچوں کا 40 دن تک زندہ رہ جانا ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حفاظت کی طرف متوجہ کرتا ہے؟

آپ اس واقعے کو کیسے دیکھتے ہیں؟

👇 ایک 13 سالہ بچی کا اپنے تین چھوٹے بہن بھائیوں کو ایسے خطرناک جنگل میں سنبھالنا—آپ اسے بہادری کہیں گے یا معجزہ؟

اس بہادر بہن کو 10 میں سے کتنے نمبر دیں گے؟ ❤️👇
ایسی ہی مزید سچی اور مزیدار کہانیوں کے لیے ہمارے پیج کو لائک شیئر اینڈ فالو ضرور کر لیں 👇👇👇👇👇
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579333593633
🏷️ ہیش ٹیگز


#ایمیزون









18/08/2026

اگر عمران خان کے علاج کے لیے چندے کی اپیل کی گئی تو اپ اپنی طرف سے کتنے پیسے جمع کرائیں گے

نہیں ، میں نے یہ نہیں کہا ۔ تو پھر ؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک عام آدمی اپنی عقل استعمال ہی نہ کرے ؟کیونکہ میں جہا...
18/08/2026

نہیں ، میں نے یہ نہیں کہا ۔

تو پھر ؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک عام آدمی اپنی عقل استعمال ہی نہ کرے ؟

کیونکہ میں جہاں تک سمجھا ہوں کہ " دین صرف اُسی شخص سے لیا جائے جو اہل ہو " ۔
اِس بات سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ : بس کسی عالم کے سامنے بیٹھ جاؤ اور جو وہ کہے آنکھیں بند کرکے مانتے جاؤ ؟

تو کیا اللہ نے عقل صرف علماء کو دی ہے ؟ کیا عام آدمی قرآن میں غور و فکر نہیں کرسکتا ؟ قرآن تو بار بار کہتا ہے کہ تم غور کیوں نہیں کرتے ؟ تو کیا ہم غور کرنا چھوڑ دیں ؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے ایسا کبھی نہیں کہا ۔۔۔ نہ میں کہونگا ۔۔۔ میں انصاف کی بات کرنا جانتا ہوں ، وہی کرونگا ۔

اور انصاف کی بات یہ ہے کہ : جاری بحث میں مسئلہ عقل استعمال کرنے یا نہ کرنے کا ہی ہے نہیں بلکہ عقل کو اس کی " صحیح جگہ " استعمال کرنے کا ہے ۔

کہ اپنی عقل کہاں اور کب استعمال کرنی ہے اور کہاں اور کب کسی ماہر کی طرف رجوع کرنا ہے ؟

آج بس اتنی سی بات سمجھنی ہے!

ذرا اپنے گھر کی مثال لیجیے : فرض کیجئے آپ کے گھر میں بجلی کا کوئی مسئلہ پیدا ہوگیا ۔
اب ایسی صورت میں آپ کی عقل یہی فیصلہ کرے گی نا کہ چونکہ بجلی کا مسئلہ ہے تو کسی الیکٹریشن کو بلانا چاہیے ۔

بطور جملہ معترضہ : گلی کے نکڑ میں کھڑے ہینڈسم بوائے کو تو پکڑ کے نہیں لائیں گے ۔

لیکن یہ فیصلہ کہ تار کہاں سے گزارنی ہے ، کون سی تار استعمال کرنی ہے ، یہ کام آپ اس شخص کے سپرد کریں گے نا جو بجلی کے کام کا ماہر ہوگا ( ظاہر ہے ۔ )

بتائیے کیوں ؟ کیونکہ یہ اُس کا دائرۂ تخصص ہے۔

دائرۂ تخصص سے میری مراد یہ ہے کہ : وہ کام جسے کرنے کے لیے کسی خاص فن کا باقاعدہ علم ، تربیت اور مہارت درکار ہو۔

اِسی طرح آپ بیمار ہوں تو آپ اپنی عقل استعمال کرکے یہ فیصلہ کریں گے کہ اس وقت مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے ، فلاں ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے ، وغیرہ وغیرہ ۔

لیکن جب آپریشن کا وقت آئے گا تو آپ اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے ڈاکٹر سے یہ نہیں کہیں گے : ڈاکٹر صاحب! میں نے بھی انٹرنیٹ پر کچھ پڑھا ہے ، آپریشن یہاں سے نہیں ، ذرا دوسری طرف سے کریں!

ویسے اگر آپ ایسا کچھ کہہ بھی دیں گے تو ممکن ہے کہ آپ کو احمقوں کے ہسپتال منتقل کردیا جائے ( مزاح کر رہا ہوں ) کم از کم لوگ تو کہیں گے نا کہ یہ کیسا بیوقوف آدمی ہے ۔

نہیں سمجھ آرہی بات تو یہ جملے تو سب سنتے آرہے ہیں !

آپ اپنا کام کریں ، ڈاکٹر کو اپنا کام کرنے دیں ، یہ مشورے گھر رکھ کر آیا کریں ، ہم یہاں جخ مارنے بیٹھے ہیں ؟

بتائیے یہ جملے آخر کیوں کہے جاتے ہیں ؟ اس لیے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہر کام کا ایک اہل اور ماہر ہوتا ہے اور پھر عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آدمی اپنے دائرے اور ماہر کے دائرے میں فرق کرے۔

اور ایسے کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ آپ نے اپنی عقل استعمال کرنا چھوڑ دی ہے بلکہ آپ نے تو عقل کا درست استعمال کرکے یہ تسلیم کیا ہے کہ : یہ کام میرے تخصص کا نہیں ، ڈاکٹر کے تخصص کا ہے۔

بس یہی بات دین کے معاملے میں بھی سمجھنی ہے۔

جیسے کچھ معاملات ایسے ہیں جہاں آپ کی عقل ، تجربہ اور مشاہدہ معتبر ہے۔

ایسے ہی کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جہاں سوال یہ ہوتا ہے کہ :

اللہ تعالیٰ کی مراد کیا ہے ؟

فرق سمجھ نہیں آرہا تو آپکی آسانی کیلئے ہم زندگی کو دو بڑے دائروں میں تقسیم کرسکتے ہیں :

پہلا : دائرۂ عام

یعنی وہ معاملات جن کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی ، دنیاوی تجربات ، مشاہدات ، انتظامی امور اور مختلف دنیاوی فنون سے ہے۔

مثلاً : گھر کس نقشے پر بنے ؟ مسجد کی عمارت کس انداز میں بنائی جائے ؟ بچوں کو پڑھانے کا بہتر طریقہ کیا ہو ؟ کسی ادارے کا انتظام کیسے کیا جائے ؟ زراعت کا کون سا طریقہ زیادہ فائدہ مند ہے ؟ کسی فلاحی کام کو کس طریقے سے زیادہ مؤثر بنایا جائے ؟

یہاں جس شخص کو متعلقہ فن کا زیادہ علم اور تجربہ ہے ، اس کی رائے زیادہ معتبر ہوگی ، یہاں کوئی ضروری نہیں کہ وہ عالمِ دین بھی ہو بلکہ اگر مسجد کی عمارت بنانی ہے تو ایک ماہر انجینئر کی رائے کسی عالم سے زیادہ اہم ہوگی ، کیونکہ سوال انجینئرنگ کا ہے۔

اگر بچوں کی تربیت کا کوئی نفسیاتی مسئلہ ہے تو ماہرِ نفسیات کی رائے ایک عالم کی رائے سے زیادہ اہم ہوسکتی ہے ۔۔۔ اگر زراعت کا مسئلہ ہے تو ماہرِ زراعت کی بات سنی جائے گی کیونکہ ہر میدان ، ہر فن اور ہر سوال کا ایک اپنا ماہر ہوتا ہے۔

اور دوسرا ہے : دائرۂ تخصص۔

میں نے ابھی عرض کیا کہ کچھ معاملات ایسے ہیں جہاں سوال یہ نہیں کہ : ہمیں دنیا میں کیا بہتر لگتا ہے ؟

بلکہ سوال یہ ہے کہ : اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟

مثلاً : اس آیت کا صحیح مطلب کیا ہے ؟ اس حدیث کی صحت کیا ہے ؟ اس حدیث سے حکم کیسے نکالا جائے ؟ اس مسئلے میں حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے ؟ زکوٰۃ کے اس پیچیدہ مسئلے کا حکم کیا ہے ؟ وراثت کی اس خاص صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا ؟

چونکہ یہاں سوال خدا کی مراد سمجھنے کا ہوتا ہے اور خدا کی مراد معلوم کرنے کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی قرآن پڑھ سکتا ہو ، عربی ترجمہ سمجھ لیتا ہو یا حدیث کے چند حوالے یاد رکھتا ہو ۔

( کیونکہ آیت پڑھ لینا اور آیت سے حکم نکال لینا دو الگ چیزیں ہیں اسی طرح حدیث کا حوالہ دے دینا اور حدیث سے شرعی حکم اخذ کرنا بھی دو الگ چیزیں ہیں! )

بلکہ یہاں باقاعدہ علوم درکار ہوتے ہیں :
عربی زبان کا علم ، حدیث کے اصولوں کا علم ، اصولِ فقہ کا علم ، عام و خاص ، مطلق و مقید ، ناسخ و منسوخ اور اس نوع کے دوسرے متعلقہ علوم۔

یہی وجہ ہے کہ ایک شخص بہت ذہین ہونے کے باوجود اگر ان علوم سے واقف نہیں تو وہ اپنی عقل سے خود شرعی احکام نکالنے کا اہل نہیں ہوجاتا۔

تو کل ملا کے خلاصہ یہ ہوا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ : دینی معاملات میں عام آدمی عقل استعمال نہ کرے۔

میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ : عام آدمی اپنی عقل استعمال کرکے پہلے یہ پہچانے کہ کون سا کام اس کے دائرے میں ہے اور کون سا کام کسی ماہر کے دائرے میں۔

یہی عقل کا بہترین استعمال ہے ۔۔۔ کیونکہ ، آپ کی عقل آپ کو بتاتی ہے کہ دل کا علاج سرجن سے کروانا ہے ۔۔۔ آپ کی عقل آپ کو بتاتی ہے کہ گھر کا نقشہ انجینئر سے بنوانا ہے ۔۔۔ آپ کی عقل آپ کو بتاتی ہے کہ عدالت کے پیچیدہ معاملے میں وکیل سے رجوع کرنا ہے۔

تو پھر یہی عقل جب دین کے پیچیدہ مسائل کے سامنے آئے گی تو اسے یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ : قرآن سے حکم نکالنا ، حدیث کی صحت پرکھنا اور پیچیدہ شرعی مسائل کا فیصلہ کرنا بھی ایک تخصص ہے اور یہاں کسی ایسے شخص کی ذاتی رائے صرف اس بنیاد پر معتبر نہیں ہوجاتی کہ وہ پڑھا لکھا ہے ، ذہین ہے یا اچھی گفتگو کرتا ہے۔

بہرحال ، عقل کو یہ منطق سمجھانی ہوگی کہ :

یہ مسئلہ میں خود سمجھ سکتا ہوں ہے یا کسی خاص علم اور تخصص کی ضرورت ہے ؟
اگر مسئلہ آپ کے دائرے کا ہے تو تحقیق کریں ، سوچیں ، تجربہ کریں ، مشورہ دیں ۔
اور اگر مسئلہ کسی خاص فن کا ہے تو اس فن کے اہل کی طرف رجوع کریں !

جیسے گھر کے معاملے میں : گھر کا رنگ کون سا ہو ؟ یہ آپ کی پسند ہے ، فرنیچر کہاں رکھا جائے ؟ یہ آپ کی رائے ہے ۔

لیکن ستون کتنا مضبوط ہونا چاہیے اور چھت کتنا وزن برداشت کرے گی ؟ یہاں انجینئر کی ضرورت ہے ۔

کیوں ؟ کیونکہ دونوں سوال ایک ہی گھر سے متعلق ہونے کے باوجود ایک ہی نوعیت کے سوال نہیں ہیں۔

بالکل اسی طرح دین سے متعلق ہر سوال بھی ایک ہی نوعیت کا نہیں ہوتا۔
اچھے اخلاق ، سچ بولنا ، والدین کی خدمت کرنا ، حسنِ سلوک اور بہت سی واضح دینی باتیں اپنی جگہ ہیں۔ ( اس پر آئندہ لکھونگا ، یہ سطر فقط اشارہ ہے )

لیکن جب پوچھا جائے کہ حضرت بتائیے : اس آیت سے شرعی حکم کیا نکلتا ہے ؟
اس حدیث کی صحت کے بارے میں اہل علم کا کیا کہنا ہے ؟ تو اب ہم دائرۂ تخصص میں داخل ہوچکے ہیں۔

اب یہاں آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ : میں نے یہ سمجھا ہے ، میرے خیال میں اس کا مطلب یہ ہے ، مجھے تو یوں لگتا ہے۔

نہیں ، اب یہاں وہ شخص بیٹھے گا جو ماہرِ فن ہے ، جو اس فن کا اہل ہے ، جسے ہم اہلِ علم اور مستند عالم دین کہتے ہیں ۔۔۔ اور وہ پھر اپنے فن اور اپنے علم کے مطابق قرآن و حدیث کی ساری کڑیاں ملائے گا ۔۔۔ قرآن کو سمجھنے کے جو اصول صدیوں سے اہلِ علم کے ہاں چلے آرہے ہیں ، حدیث کے اصول ، اصولِ فقہ، صحابۂ کرامؓ کا فہم ، ائمہ اور فقہاء کا علمی منہج ، عام و خاص ، مطلق و مقید ، ناسخ و منسوخ اور متعلقہ تمام چیزوں کو سامنے رکھ کر اس مسئلے کو سمجھے گا۔پھر ان سب چیزوں کو سامنے رکھ کر ایک نتیجہ نکالے گا اور ہمیں بتائے گا کہ اس مسئلے میں شرعی حکم یہ ہے۔

لہٰذا "دین صرف اہلِ علم سے لیا جائے" کا مطلب یہ نہیں کہ اپنی عقل گھر رکھ آؤ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اپنی عقل سے پہلے یہ فیصلہ کرو کہ یہ کام میری دسترس کا ہے یا کسی ماہر کے دائرۂ تخصص کا۔

اور یہی درست رویہ اور طریقہ ہے ، یہی قرآن کا حکم ہے ، یہی رسول کا حکم اور صحابہ کرام طریقہ ہے ، یہی عقل والوں کی نشانی اور عقل کا درست استعمال ہے!

باقی آپ اس پر جتنی بحث کرلیں ، فضول ہے!

مدثر فاروقی ✒️

 # 🕋 ایک ماں کا صبر، ایک باپ کا یقین اور ایک معصوم بچے کی قربانی ❤️یہ صرف قربانی کی کہانی نہیں...یہ **اللہ پر یقین، صبر،...
16/08/2026

# 🕋 ایک ماں کا صبر، ایک باپ کا یقین اور ایک معصوم بچے کی قربانی ❤️

یہ صرف قربانی کی کہانی نہیں...

یہ **اللہ پر یقین، صبر، اطاعت اور بے مثال توکل** کی داستان ہے۔ 🤲

وہ وادی آج جیسی نہ تھی...

نہ وہاں کوئی شہر تھا، نہ کوئی گھر، نہ کھیتی، نہ سایہ دار درخت۔

چاروں طرف خاموش پہاڑ، تپتی ہوئی ریت اور دور دور تک پھیلی ہوئی ویرانی تھی۔ 🏜️

اسی سنسان وادی میں ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام اور اپنے ننھے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر پہنچے۔

حضرت ہاجرہؑ کی گود میں ایک شیر خوار بچہ تھا۔

وہاں نہ کوئی آبادی تھی، نہ پانی کا انتظام، نہ کسی انسان کا سہارا۔

حضرت ابراہیمؑ نے کچھ سامان اور پانی وہاں رکھا اور پھر واپس جانے لگے۔

حضرت ہاجرہؑ نے حیرت سے دیکھا کہ وہ جا رہے ہیں۔

وہ ان کے پیچھے چلیں اور پوچھا:

**"اے ابراہیم! آپ ہمیں اس وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟"**

لیکن حضرت ابراہیمؑ اللہ کے حکم کے سامنے خاموش رہے۔

حضرت ہاجرہؑ نے دوبارہ پوچھا...

پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ **اللہ تعالیٰ کا حکم ہے** تو ان کے دل کو اطمینان ہوگیا۔

ایک ماں کے لیے یہ کتنا بڑا امتحان تھا! 💔

گود میں ننھا بچہ...

سامنے بے آب و گیاہ وادی...

اور کوئی ظاہری سہارا نہیں۔

مگر حضرت ہاجرہؑ نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ 🤲

حضرت ابراہیمؑ وہاں سے آگے بڑھے اور ایک مقام پر رک کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی:

> **رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ**

**ترجمہ:**
"اے ہمارے رب! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے محترم گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں بسایا ہے جہاں کوئی کھیتی نہیں، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم کریں، پس لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ وہ شکر گزار بنیں۔"

📖 **سورۃ ابراہیم: 37**

حضرت ہاجرہؑ اور ننھے اسماعیلؑ اب اس سنسان وادی میں تھے۔

وقت گزرتا گیا...

پانی کم ہونے لگا۔ 💧

پھر وہ وقت آیا جب پانی ختم ہوگیا۔

ننھا بچہ پیاس سے بے چین ہونے لگا۔

ماں کے دل میں بے قراری پیدا ہوئی۔

حضرت ہاجرہؑ اپنے بچے کے لیے پانی تلاش کرنے نکلیں۔

وہ صفا پہاڑی پر چڑھیں...

دور تک دیکھا...

شاید کوئی قافلہ نظر آجائے۔

کوئی مسافر...

کوئی انسان...

کوئی پانی کا نشان...

مگر کچھ دکھائی نہ دیا۔

وہ مروہ کی طرف گئیں۔

پھر وہاں سے صفا کی طرف...

پھر مروہ...

ایک ماں اپنے بچے کے لیے پانی تلاش کر رہی تھی۔ ❤️

وہ دوڑ رہی تھیں، تلاش کر رہی تھیں، امید کر رہی تھیں۔

اور اللہ تعالیٰ اس ماں کی اس کوشش کو آنے والی نسلوں کے لیے عبادت بنا رہا تھا۔

آج بھی حج اور عمرہ کرنے والے مسلمان **صفا اور مروہ کے درمیان سعی** کرتے ہیں۔ 🕋

پھر اللہ تعالیٰ نے ننھے اسماعیلؑ کے لیے **زمزم** جاری فرمایا۔ 💧

جہاں پانی کا کوئی نشان نہیں تھا، وہاں اللہ نے ایسا چشمہ جاری کیا جس کا ذکر قیامت تک باقی رہنا تھا۔

اور یوں اس ویران وادی میں زندگی کی ابتدا ہوئی۔

---

# # # 🌿 وقت گزرتا رہا...

ننھا اسماعیلؑ بڑا ہونے لگا۔

مگر ابھی وہ جوان نہیں ہوئے تھے۔

وہ اپنی کم سنی اور معصومیت کی عمر میں تھے؛ بس اتنی عمر کو پہنچ چکے تھے کہ اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چل پھر سکیں، ان کے ساتھ رہ سکیں اور ان کے کام میں ہاتھ بٹا سکیں۔

ایک دن حضرت ابراہیمؑ نے اپنے اسی معصوم بیٹے کو دیکھا...

اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا امتحان سامنے آیا جس نے تاریخِ انسانی کو ہمیشہ کے لیے بدل دینا تھا۔

حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے سے فرمایا:

> **يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ**

**ترجمہ:**
"اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، پس تم دیکھو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔"

📖 **سورۃ الصافات: 102**

ذرا اس منظر کو اپنے دل میں محسوس کیجیے... 💔

ایک باپ کے سامنے اس کا معصوم بیٹا کھڑا ہے۔

وہی بچہ جسے کبھی ایک سنسان وادی میں اللہ کے بھروسے پر چھوڑا گیا تھا۔

وہی بچہ جس کے لیے ایک ماں نے صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ لگائی تھی۔

اور آج...

اسی بچے کے بارے میں باپ کہہ رہا ہے:

**"میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔"**

مگر اس معصوم بچے کا جواب کیا تھا؟

قرآن نے اس جواب کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا:

> **قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ**

**ترجمہ:**
"اس نے کہا: اے میرے ابا! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے، اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔"

📖 **سورۃ الصافات: 102**

کیا ایمان تھا! ❤️

نہ شکوہ...

نہ انکار...

نہ سوال...

بس اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکا دیا۔

پھر باپ اور بیٹا اس مقام کی طرف روانہ ہوئے جہاں اللہ کا حکم پورا ہونا تھا۔

قرآن اس لمحے کو یوں بیان کرتا ہے:

> **فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ**

**ترجمہ:**
"پھر جب دونوں نے اپنے آپ کو حکمِ الٰہی کے سامنے جھکا دیا اور اس نے اسے پیشانی کے بل لٹا دیا۔"

📖 **سورۃ الصافات: 103**

یہ وہ لمحہ تھا...

جب حضرت ابراہیمؑ نے اپنے رب کے سامنے مکمل اطاعت پیش کردی۔

اور حضرت اسماعیلؑ نے بھی اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیا۔

پھر اچانک...

اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکار آئی:

> **يَا إِبْرَاهِيمُ ۝ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا**

**ترجمہ:**
"اے ابراہیم! تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔"

📖 **سورۃ الصافات: 104-105**

اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

> **إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ۝ وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ**

**ترجمہ:**
"یقیناً یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا۔ اور ہم نے اسے ایک عظیم قربانی کے بدلے چھڑا لیا۔"

📖 **سورۃ الصافات: 106-107**

حضرت اسماعیلؑ بچ گئے... ❤️

اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کی اطاعت کو قبول فرما لیا۔

یہاں ایک بہت بڑا سبق چھپا ہوا ہے:

**اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے اسماعیلؑ کی جان نہیں لی، بلکہ ان کے دل کا امتحان لیا تھا۔**

اور جب باپ اور بیٹا اللہ کے حکم کے سامنے پورے اترے تو اللہ نے اپنی رحمت سے اسماعیلؑ کو بچا لیا۔

---

# 🕋 پھر اسی باپ اور بیٹے کے ہاتھوں ایک عظیم گھر تعمیر ہوا

وقت گزرتا رہا۔

پھر وہ وقت آیا جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام **بیت اللہ کی بنیادیں بلند کرنے لگے۔**

پتھر اٹھتے رہے...

دیوار بلند ہوتی رہی...

اور ایک ایسا گھر وجود میں آ رہا تھا جس کی طرف آنے والے زمانوں میں پوری دنیا کے مسلمان رخ کرنے والے تھے۔

مگر ان دونوں کے دل میں غرور نہیں تھا۔

وہ اتنا عظیم کام کر رہے تھے، لیکن پھر بھی دعا کر رہے تھے:

> **رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ**

**ترجمہ:**
"اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔"

📖 **سورۃ البقرہ: 127**

پھر انہوں نے اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے دعا کی:

> **رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ**

**ترجمہ:**
"اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک ایسی امت پیدا فرما جو تیری فرمانبردار ہو۔"

📖 **سورۃ البقرہ: 128**

آج جب دنیا کے مختلف حصوں سے مسلمان مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں...

کعبہ کو دیکھتے ہیں...

صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں...

زمزم پیتے ہیں...

تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ان سب کے پیچھے ایک خاندان کی ایسی قربانیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے زندہ کر دیا۔ 🕋❤️

ایک ماں...

جس نے اپنے بچے کو اللہ کے سپرد کیا۔

ایک باپ...

جس نے اللہ کے حکم پر اپنی سب سے عزیز چیز قربان کرنے کا ارادہ کیا۔

اور ایک معصوم بچہ...

جس نے اپنے والد سے کہا:

**"اے میرے ابا! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔"**

❤️ **یہ صرف قربانی کی داستان نہیں...**

یہ **یقین** کی داستان ہے۔

یہ **صبر** کی داستان ہے۔

یہ **اللہ پر توکل** کی داستان ہے۔

اور یہ اس حقیقت کی داستان ہے کہ:

# # 🌹 **جو دل اللہ کے سامنے جھک جائے، اللہ اسے کبھی ضائع نہیں کرتا۔** 🤲❤️

حضرت ہاجرہؑ کی بے قراری سے **زمزم** نکلا... 💧

حضرت ابراہیمؑ کی اطاعت سے **قربانی کی سنت** قائم ہوئی... 🐑

حضرت اسماعیلؑ کے صبر سے آنے والی نسلوں کو **رضا اور فرمانبرداری** کا سبق ملا... ❤️

اور ان سب کے درمیان ایک ایسا گھر قائم ہوا جس کی طرف آج بھی کروڑوں دل کھنچے چلے آتے ہیں۔

🕋 **کعبہ آج بھی وہیں ہے۔**

💧 **زمزم آج بھی جاری ہے۔**

🏃 **صفا و مروہ آج بھی زندہ ہیں۔**

اور...

**ابراہیمؑ، ہاجرہؑ اور اسماعیلؑ کی داستان آج بھی ہر اس دل کو آواز دیتی ہے جو اللہ پر بھروسہ کرنا چاہتا ہے۔** ❤️

یا اللہ! 🤲

ہمیں حضرت ہاجرہؑ جیسا توکل،

حضرت ابراہیمؑ جیسا یقین،

اور حضرت اسماعیلؑ جیسی اطاعت و صبر عطا فرما۔

**آمین یا رب العالمین۔** 🤲❤️

مزید ایسی ہی ایمان تازہ کرنے والی سٹوریز کے لیے ہمارے پیج کو لائک شیئر اینڈ فالو کر لیں 👇👇👇👇
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579333593633

---

ؑ ؑ ؑ #قربانی #قرآن #زمزم #حج #اسلام #ایمان #صبر #توکل

پاکستان کی مسلح افواج کے زیرِ انتظام تجارتی اور فلاحی اداروں کا تحقیقی جائزہ 🇵🇰📊سلامِ مسنون! آج کی اس پوسٹ میں ہم بات کر...
16/08/2026

پاکستان کی مسلح افواج کے زیرِ انتظام تجارتی اور فلاحی اداروں کا تحقیقی جائزہ 🇵🇰📊
سلامِ مسنون! آج کی اس پوسٹ میں ہم بات کریں گے کہ پاکستان کی فوج، ایئر فورس اور نیوی کے فلاحی اداروں کے ماتحت کون کون سے بڑے کاروباری گروپس، فیکٹریاں اور پروجیکٹس ملک میں کام کر رہے ہیں۔
سرکاری طور پر ان اداروں کا مقصد ریٹائرڈ فوجیوں، شہداء کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور پنشن فنڈز کا حصول بتایا جاتا ہے۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ یہ نیٹ ورک کہاں کہاں پھیلا ہوا ہے 👇
🔹 فوجی فاؤنڈیشن (Fauji Group)

* کھاد (Fertilizer): ایف ایف سی (FFC) اور ایف ایف بی ایل (FFBL) کے ذریعے یوریا اور زرعی کھادوں کی تیاری 🌾
* سیمنٹ: فوجی سیمنٹ کمپنی (FCCL) کے ذریعے سیمنٹ کی پیداوار 🏗️
* توانائی: مختلف پاور پلانٹس کے ذریعے بجلی کی پیداوار ⚡
* خوراک اور گھی: نورباجی اور سونا پراجیکٹس کے تحت کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری ghee اور خوراک 🍲
* گیس اور تیل: فاؤنڈیشن گیس اور ماری پیٹرولیم (Mari Petroleum) کے ذریعے تیل و گیس کی تلاش 🛢️
* فنانس اور سیکیورٹی: عسکری بینک اور فوجی سیکیورٹی سروسز 🏦🔒

🔹 آرمی ویلفیئر ٹرسٹ (AWT / Askari Group)

* شوگر ملز: عسکری شوگر ملز (بدین) 🏭
* چمڑے کی مصنوعات: عسکری شوز پراجیکٹ (لاہور) جو جوتے اور چمڑے کا سامان بناتا ہے 👞
* ایوی ایشن اور ایندھن: عسکری ایوی ایشن اور سی این جی / فیول اسٹیشنز ⛽✈️
* ریئل اسٹیٹ: عسکری ہاؤسنگ سوسائٹیز اور بلیو لاگون ریسٹورنٹ 🏡🍽️

🔹 ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (DHA)

* پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ: کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان، پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں ہاؤسنگ اور کمرشل پراجیکٹس 🏙️

🔹 نیشنل لاجسٹکس سیل (NLC) اور فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن (FWO)

* لاجستکس: NLC کا مال برداری اور ٹرانسپورٹ کا وسیع نظام 🚛
* تعمیرات: FWO کا شاہراہوں، ٹنلز، ڈیموں اور بڑے سرکاری پراجیکٹس کا کام 🛣️🌉

🔹 بحریہ فاؤنڈیشن اور شاہین فاؤنڈیشن

* بحریہ فاؤنڈیشن: میری ٹائم، ساحلی، تعلیمی اور فلاحی خدمات ⚓
* شاہین فاؤنڈیشن: پاک فضائیہ کے ماتحت تعلیمی ادارے اور کاروباری پلازے ✈️📚

🔹 دفاعی پیداوار اور فیکٹریاں (Ministry of Defence Production)

* پاکستان آرڈیننس فیکٹریاں (POF - واہ کینٹ): چھوٹے ہتھیار، گولہ بارود اور بارودی مواد کی تیاری 🎯
* ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT): الخالد اور الزار ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی تیاری و مرمت 🛡️🚜
* پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (PAC - کامرہ): جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی تیاری اور اسمبلی میں معاونت ✈️🇲🇰
* نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC): مواصلاتی اور الیکٹرانک آلات کی تیاری 📡💻

نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں کہ کیا فوجی اداروں کو یہ سب کرنا چاہیے اور ہمارے پیج کو لائک شیئر اینڈ فالو کرنا مت بھولیں 👇👇👇👇https://www.facebook.com/profile.php?id=61579333593633

 # ⚖️ عدل و انصاف کی حیرت انگیز داستان — عمر بن عبدالعزیزؒ اور سمرقندثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد، سلطنت اس...
15/08/2026

# ⚖️ عدل و انصاف کی حیرت انگیز داستان — عمر بن عبدالعزیزؒ اور سمرقند

ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد، سلطنت اسلامیہ کےحکمران سے ملنا چاہتا تھا۔ 🐎

اسکے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔

پادری نے لکھا!

> "ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
>
> مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور اچانک حملہ کر کے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔"

یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے اسلامی سلطنت کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔ 📜

دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔

ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔ 🏠

جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔

اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔

لوگوں نے کہا،

ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبدالعزیز کا گھر ہے۔

قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھر پر جا کر دستک دی، جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اندر سے نمودار ہوا۔

قاصدنے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبدالعزیز کو دے دیا۔

عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا:

**عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام؛ ایک قاضی کا تقرر کرو جو پادری کی شکایت سنے۔**

مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔ ⚖️

یہ سب دیکھ کر قاصد بہت مایوس ہوا💔

سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا، تو پادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔

اس نے سوچا کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ انہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔

مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے۔

قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اسکے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔

قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا؟

پادری نے کہا:

قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

قاضی نے قتیبہ کو دیکھکر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں؟

قتیبہ نے کہا:

قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔

سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اسکے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔

سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔

قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا:

**قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی؟**

قتیبہ نے کہا:

نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔

قاضی نے کہا:

**میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔**

**اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔**

میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔

اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔

پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ 😮

چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جا چکا تھا۔

ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔

ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں۔

عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کر دے۔ ⚖️

تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور **لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ** کا اقرار کرتے ہوئے اُنکو واپس لے آئے کہ یہ آپکی سلطنت ہے اور ہم آپکی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے فخر سمجھیں گے۔ 🤲

دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔

**کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی۔** ❤️

مزید ایسی ہی تاریخی تحریروں کے لیے ہمارے پیج کو لائک شیئر اینڈ فالو لازمی کر لیں 👇👇👇👇👇
https://www.facebook.com/profile.php?id=61579333593633

ؒ

#سمرقند

#اسلام



























Address

Dera Ismail Khan
29020

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Asr-e-Nau & Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category