02/07/2026
امام حسن علیہ السلام صلح کے لیے نہیں بلکہ کسی اور مقصد سے آئے تھے، تو پھر صحیح بخاری (2704، 867، 7109) خود گواہ ہے کہ وہ لشکر لے کر نکلے تھے۔ لشکر لے کر کوئی سیر و تفریح کے لیے نہیں نکلتا، بلکہ جنگ کے امکان کے لیے نکلتا ہے۔ مگر جب صلح کا موقع پیدا ہوا تو امام حسنؑ نے وہی کیا جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
- سورۃ الحجرات (49:9): اگر دو مسلمان گروہ آپس میں لڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔
- سورۃ الحجرات (49:10): مومن آپس میں بھائی ہیں، لہٰذا ان کے درمیان صلح کراؤ۔
- سورۃ الانفال (8:61): اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو تم بھی صلح قبول کرو۔
جب رسول اللہ ﷺ نے کفار کے ساتھ صلح حدیبیہ شریعت کے مطابق قبول کی، تو امام حسن علیہ السلام نے بھی مسلمانوں کے خون کو بچانے کے لیے صلح کی۔ یہ کمزوری نہیں، بلکہ قرآن و سنت پر عمل تھا۔
پھر سوال یہ ہے کہ جو شخص عبداللہ بن عمرؓ سے یہ کہہ سکتا تھا کہ:
"میں تمہارے باپ سے خلافت کا زیادہ حق دار ہوں" (صحیح بخاری: 4108)، کیا وہ واقعی مولیٰ علی علیہ السلام یا امام حسن علیہ السلام کی امامت و حق کو دل سے ماننے والا تھا؟
امام حسن علیہ السلام نے اپنی ذات یا اقتدار کے لیے نہیں، بلکہ امت کے اتحاد اور مسلمانوں کے خون کی حفاظت کے لیے قربانی دی۔ اگر جنگ جاری رہتی تو دونوں طرف مسلمان ہی قتل ہوتے، اور اسلام مزید کمزور ہوتا۔
اسی حقیقت کی خبر رسول اللہ ﷺ نے پہلے ہی دے دی تھی:
"إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ."
(صحیح بخاری: 2704)
"میرا یہ بیٹا حسن سید ہے، اور اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح کرائے گا۔"
یہاں نبی ﷺ نے امام حسنؑ کو "میرا بیٹا" فرمایا۔ جب قرآن ﴿وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ﴾ (سورۃ النمل 27:16) اور سلیمان، داؤد کے وارث ہوئے- حضرت سلیمانؑ کو حضرت داؤدؑ کا وارث قرار دیتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ کے نواسے اور "میرے بیٹے" کہلانے والے امام حسنؑ اہلِ بیت کے وارث کیوں نہ ہوں؟ ان کی شہادت کے بعد ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام زندہ تھے، مگر ان کے حق کو بھی نظرانداز کیا گیا۔
بعد کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ یزید کی حکومت، اس کا کردار، اس کی طرزِ زندگی، اور پھر واقعۂ کربلا—یہ سب تاریخ کا حصہ ہیں، جنہیں کسی تعارف کی ضرورت نہیں۔
امام حسن علیہ السلام کی صلح کمزوری نہیں تھی، بلکہ قرآن، سنتِ نبوی ﷺ، اور امتِ مسلمہ کے مفاد کے مطابق ایک عظیم قربانی تھی جس نے مسلمانوں کے خون کو بہنے سے بچایا۔